ورزء ضعف الإیمان۔ وأری أکثر المسلمین کأنما أُخرج الإیمان من قلوبہم، وأحرقت العمل المبرور نار ذنوبہم، وہذا ہو سبب الارتداد۔ فإن اللّٰہ رآہم مفسدین مکّارین کالصیّاد، فقذف بہم إلی جموعٍ یحبون طرق الفساد، وہذا ہو سر کثرۃ المرتدین، وعلی الصلیب عاکفین، ومن اللّٰہ فارّین۔ ما ینفعہم وعظ الواعظین ولا نصح الناصحین۔ ولم کی اور دوسری مصیبت ضعف ایمان کی اور میں اکثر مسلمانوں کو دیکھتا ہوں کہ گویا ایمان ان کے دل میں سے نکالا گیا ہے اور گناہوں کی آگ نے ان کے نیک عمل کو جلا دیا ہے اور یہی مرتد ہونے کا سبب ہے کیونکہ خدا نے ان کو مفسد پایا اور شکاری کی طرح مکّار دیکھا اس لئے انہیں ان لوگوں کی طرف پھینک دیا جو فساد کو دوست رکھتے ہیں اور مرتدوں کے زیادہ ہو نے کا یہی بھید ہے اور ان لوگوں کی کثرت کا یہی سبب ہے جو صلیب پر جھکتے اور خدا سے بھاگتے ہیں ۔ ان کو نہ کسی واعظ کا وعظ نفع دیتا ہے اور نہ کسی ناصح کی نصیحت کارگر ہوتی ہے اور مصیبت ضعف ایمان۔ من بسیارے از مسلمان رامے بینم کہ گویا ایمان از دل انہا بالمرہ برون رفتہ و آتشِ گناہاں رخت کردار نیک را پاک سو ختہ است۔ و بحقیقت اصل سبب ارتدادہمین است چہ خدا انہارا بد کردار و مثل صیاد مکار و حیلہ گر دید۔ لہٰذا گروہے را بر اُنہا مسلط گرد انید کہ بد کرداری و بد روشی را دوست دارند۔وہمین است سبب کثرت مرتدان و ہم سبب کثرت انہائے کہ سر بر صلیب فرود آوردہ و از خد ا گریز را اختیار کردہ اند۔ و پند و اعظے و اندرز ناصحے گرہ از کارانہانمی کشاید۔