والنفوس قد فارت، وأہواء الدنیا علیہا غلبت، وکثرت الحجُبُ وتوالت۔ فیرون ثم لا یرون، ویسمعون ثم یتناسون، فلیس علاج ہذا الداء إلَّا نور یتنزّل من السماء ، وآیات تتوالی من حضرۃ الکبریاء ، فإن الإیمان ضعف وکثرت وساوس الخنّاس، وبلغ الأمر إلی الیأس۔ وغلبت علی أکثر القلوب محبۃ
الدنیا الدنیّۃ، وأینما وجدوہا فیسعون إلی تلک الناحیۃ، وما بقی تعلق بالإیمان والملّۃ۔ فہٰہنا لیس رزءً واحدًا بل یوجد رزآن: رزء التنصّر
اور نفسوں نے جوش مارا اور دنیا کی خوا ہشیں غالب آ گئیں اور پردے بڑھ گئے ۔ سو وہ دیکھ کر پھر نہیں دیکھتے اور سنتے ہیں اور پھر بھلا دیتے ہیں ۔ پس اس بیماری کا بجز اس کے اور کوئی علاج نہیں کہ آسمان سے نور نازل ہو اور پے در پے نشان ظاہر ہوں کیونکہ ایمان ضعیف ہو گیا اور شیطانی وسوسے بڑھ گئے
ہیں اور نو میدی تک نوبت پہنچ گئی ہے اور اکثر دلوں پر دنیا کی محبت غالب آ گئی ہے اور جہاں دنیا کو پاویں پس اسی طرف دوڑتے ہیں اور ایمان اور ملّت سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا ۔ پس اس جگہ ایک مصیبت نہیں ہے بلکہ دو مصیبتیں ہیں ۔ ایک مصیبت عیسائی ہونے
دلہا کور و دانشہا تاریک شد و آزو ہوا در جوش و حب دنیا در خروش آمد پردہ بر پردہ افزونے گرفت تا نور دیدہ تاریک شد۔می شنوند واز دل بروں کنند۔ لہٰذا چارۂ جہت این مرض نیست بجز اینکہ نورؔ ے از آسمان نازل شود و پیاپئے نشانہا پدیدار شوند چہ ایمان ناتوان گردیدہ و وسوسہ ہائے شیطانی روبہ ترقی و نوبت بہ یاس رسیدہ است و بسیارے از دلہا مغلوب حب دنیا شدہ ہرجا آنرا بیابنددر زمان بسوئے آں شتابند۔ میل خاطر بہ ایمان و دین نماندہ است۔ در حقیقت اینجا نہ یک مصیبت بلکہ دو تا مصیبت است یعنی مصیبت تنصّرو