ویترکون سراجًا وہَّاجًا۔ ولا تنفع المباحثۃ الخالیۃ عن الخوارق عند ہذہ الآفات، فإن الدنیا صارت لہم منتہی المآرب وملأ الفساد فی النیّات۔ فحینئذٍ اشتدّت الحاجۃ إلی تجدید الإیمان بالآیات۔ وطالما أیقظہم العالمون فتناعسوا وجذبہم الواعظون فتقاعسوا وما نفعتہم البراہین العقلیۃ ولا النصوص النقلیۃ۔ وزادوا طغیانا واعتسافا، وترکوا عدلا وانصافا۔ فالسرّ فیہ أن القلوب قدؔ عمت، والعقول قد کدرت، اور چراغ روشن کو چھوڑ تے جاتے ہیں ۔ سو ان آفتوں کے وقت میں صرف مباحثہ جو خوارق سے خالی ہو کچھ فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ایسے لوگوں کا اصل مقصود دنیا ہے اور نیتوں میں فساد بھرا ہوا ہے اور اس وقت ایمان کے تازہ کرنے کے لئے نشانوں کی حاجت ہے اور بہت مدت تک عالموں نے ان کو جگایا پس وہ بتکلّف سوئے رہے اور وعظ کرنے والوں نے ان کو اپنی طرف کھینچا پس وہ پیچھے ہٹ گئے اور ان کو نہ براہین عقلیہ نے نفع دیا اور نہ نصوص نقلیہ نے اور تجاوز اور تعصب میں بڑھ گئے اور عدل اور انصاف کو چھوڑ دیا ۔ اور اس میں بھیدیہؔ ہے کہ دل اندھے ہو گئے اور عقلیں مکدر ہو گئیں بر چراغ روشن مے کنند۔ درہنگام چنیں آفات مباحثاتے کہ از خوارق عادات و نشانہائے آسمانی مجرد باشد سودے نمی بخشد ۔ چہ اصل غرض ہمچو مردم دنیائے دنی و فساد دردل انہا مخفی است لہٰذا امروز برائے تجدیدایمان احتیاج بہ نشانہائے آسمانی است۔ علما ء تا زمانے دراز در پئے بیدار کردن انہا بودند ولی از خواب بر نیا مدند و واعظان بسوئے خود شاں کشید ند ولے پس نشستند۔براہین عقلیہ بانہا سودے نہ بخشید و نصوص نقلیہ پنبۂ غفلت از گوش انہا بیرون نہ کشید بل بر تعصب و اصرار و ضد و انکار انہا بیفزود۔ بسبب ایں کہ