إلی أن یرین ہوی التنصر علی قلوبہم، ویسفی ہواء الطمع نور لبوبہم، فیُوَطِّنُون نفوسہم علی الارتداد ویضربون علیہ جروتہم لخبث المواد، ثم یرتدون قائلین بأنہم کانوا طلَّاب الحق والسداد۔ والأصل فی ذالک أن أکثر الناس فی ہذا الزمان قد تمایلوا علی الدنیا وقلّت معرفۃ اللّٰہ الدیَّان، وقلَّ خوفُہُ ولم تبق محبّتہ فی الجنان۔ فلما رأوا زخرف الدنیا فی أیدی القسوس مالوا إلیہم برغبۃ النفوس، فلأجل ذالک یدخلون فی ظلماتہم أفواجًا یہاں تک کہ ان پر بھی نصرانیت کی خواہش غالب آجاتی ہے اور طمع کی ہوا ان کے دلوں کے نور کو اڑا کر لے جاتی ہے ۔ پس مرتد ہو نا دل میں ٹھان لیتے ہیں اور دل کو اس پر بوجہ خباثت مواد پختہ کر لیتے ہیں پھر یہ کہتے ہوئے مرتد ہو جاتے ہیں کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے اور اس بد مذہبی کی گرم بازاری کا اصل سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ اس زمانہ میں دنیا کی طرف جھک گئے ہیں اور خد اتعالیٰ کا خوف کم ہو گیا اور دل میں ا س کی محبت باقی نہ رہی۔ پس جب کہ ان لوگوں نے دنیا کی زینت کو پادریوں کے ہاتھ میں دیکھا تو اپنے دلوں کی رغبت سے ان کی طرف مائل ہو گئے سو اسی لئے ہزار ہا لوگ ان کی تاریکی میں داخل ہو رہے ہیں ہوائے تنصّر در دل انہا جاگیر دو بادآز نور خرد انہارا رباید۔ آخر برارتداد آمادہ شوند و بسبب خبث مادہ دل را براں نیّت استوار کنند و باز چون مرتد شوند۔ گویند ما طالبان راستی بودیم ۔ اصل این فساد آنکہ اکثرے در ایں زمانہ ہمہ تن روی بدنیا شدہ وخوف خدا و شناخت وے نماندہ و محبت وے از دلہا دُور شدہ ۔ پس ہر گاہ امثال ایں کساں زینت دنیا دردست کشیشاں دیدند با ہزار جان بسوئے انہا دویدند۔ ازیں جہت است کہ فوج فوج مردم در اندرون تاریکی انہا جائے مے جویند و پشت