الامتنان۔ فیسحبون مطارف الثراء ، ویزینون معارف السراء، ثم یمرّون بصحب لہم کانوا بہم من قبل کأسنان المشط فی استواء العادات والمیل إلی السیئات، وکانوا یُکابدون أنواع الفقر والبؤس والحاجات، فیقصّون علیہم قصص رخاۂم بعد بأساۂم وضرّاۂم، ویذکرون عندہم مبرۃ القسوس وجرایاتہم، وما أترعوا الکیس من الفلوس بعنایاتہم۔ وکذالک لم یزالوا یحثونہم وفی الأموال یرغبونہم، وإلی وسائل الشہوات یحرّکونہم ہیں ۔ پس یہ لوگ دولتمندی کی چادریں ناز سے کھینچنے لگتے ہیں اور اپنے چہروں کو جو فراخی کی حالت میں ہوتے ہیں زینت دیتے ہیں ۔ پھر ان دوستوں کو ملتے ہیں جو شانہ کے دندانوں کی طرح ان سے بدی میں برابر اور ہم خیال تھے اور طرح طرح کے فقر و فاقہ کی سختی میں پڑے ہوئے تھے ۔ اور ان سے اپنے قصے بیان کرتے ہیں کہ وہ کیسی تنگی اور تکلیف سے فرا خی میں آ گئے اور ان کے پاس پادریوں کے نیک سلوک کا ذکر کرتے ہیں اور وہ سب کچھ بیان کرتے ہیں جو ان کے دائمی وظیفے ہوئے اور جو کچھ انہوں نے ما ل سے جیب پر کئے ۔ اسی طرح ان کو ہمیشہ رغبت دیتے رہتے ہیں اور مالوں اور طرح طرح کے وسائل شہوات کی طرف ان کو ترغیب دیتے ہیں۔ باحلہ تمول دامن کشان گزرندو چہرہ ہائے خود را کہ بہرہ منداز شاد کامی باشند زیب و زینت بخشند۔ باز بآن دوستان آمیز گاری کنند کہ مثل دندان شانہ در بد کرداری و نا ہنجاری باا نہا برابر و ہمنوا و چوں انہا بے برگ و بے نوا بودند۔ وبا انہا صحبت دارند و از فراخ حالی و شاد کامی کہ اکنون بانہا حاصل است و از حسنِ سلوک کشیشان ذکری درمیان آورند وہمۂ آنچہ بطور جامگی و مدد معاش از انہا گرفتہ و کیسہ ہارا از نقد پر کردہ اند مذکور سازند۔ خلاصہ ہمچنیں انہارا بر می انگیز ند و برائے ثروت و مال و اسباب شہوات انہارا تشویق دہند تا آنکہ