لہم نضرۃ بنضارہم، وزہرۃ بإظہارہم، حتی یکونوا فی رفہہم کحدیقۃ أخذت زخرفہا وازّیّنت، وتنوعت أزاہیرہا وتلوّنت۔ وکذالک قسوسہم یحبونہم بتلک الخصائل والسب والہذیان، والمجادلات وہذر اللسان، ویظنون أنہم التفّوا بأہدابہم بخلوص الجنان۔ فیعتمدون علیہم فی کل مورد یرِدُونہ، ومعرّس یتوسدونہ، وتستہویہم خضرۃ دمنتہم للمنادمۃ، وخدعۃ سمتہم بالمناسمۃ، ویقبلون علیہم بالمنّ والإحسان، والجود و پادریوں کے روپیہ سے تازگی حاصل ہو جاتی ہے اور ان کے پھولوں سے وہ تازہ حال رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی خوشحالی اور آسودگی میں ایسے ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ ایک باغ ہیں مزیّن اور آراستہ جس کے پھو ل گو ناگوں اور رنگا رنگ ہیں اور اسی طرح ان کے پادری ان خصلتوں اور بدگوئی اور بد زبانی اور کج بحثی اور بیہودگی کی وجہ سے ان سے پیار کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ وہ دلی خلوص سے ان کے دامن سے وابستہ ہو گئے ۔ پس ہر ایک جگہ جو وہ وارد ہوں اور ہر ایک فرود گاہ میں جو وہ اتریں ان پر اعتماد کرتے ہیں اور ان لوگوں کی ظاہری صفائی اور نیک بختوں کا سا منہ بنایا ہوا پادریوں کو اس دھوکا میں ڈالتا ہے کہ وہ اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے اور ہمراز ہونے کیلئے ان لوگوں کو پسند کر لیتے ہیں اور احسان اور مروت کے ساتھ پیش آتے مال کشیشان بر خور می و تازگی انہامی افز اید و گلہائی اسقفان حال انہار ا شاد ان می نماید۔ تا آنکہ ازین خوش بختی گوئی باغے ہستند از بس آراستہ و پیر استہ و گلہائی گوناگون و شگوفہائے بو قلموں بر آوردہ۔ و ہمچنین کشیشان آں سقط گفتن و زبان بہ نا واجب کشودن و کج بحثی و بے راہ روی انہارا بجان دوست دارند و پندارند کہ انہابا خلاص ہرچہ تمامتر خود را بد امن ایشان بستہ اند۔ لاجرم در ہر مقام و ہر موقع اعتماد بر انہاکنند صفائی ظاہر وروی پارسایانۂ انہا کشیشان را فریب دہد تا انہارا شریک نوالہ وپیالہ سازند و امبازودمساز راز نمایند وہر گونہ منت و احسان بر انہا کنند۔ پس این متنصّران