ولا یُہددون ولا یتوعدون علی معصیۃ۔ ولا یُبالغون فی ملامۃ عند ارتکاب کبیرۃ، بما تفیّأوا ظل کَفَّارۃٍ مُطَہِّرۃ۔ فکذالک یُزیدونہم جرأۃ علی جرأۃ حتی تکون الإباحۃ لأکثرہم دربۃ، ویحسبون سہوکۃ ریّاہا طیبا وطیبۃ۔ ویتبرّؤن من الإسلام، ویسبّون نبینا خیر الأنام، ویقذفون معادین بعد ما کانوا مسلمین فی حین، إلَّا قلیلا من المستحیین۔ وکذالک یفعلون لیرضوا القسوس ویستوعبوا الفلوس ویکونوا من المتموّلین۔ فیحصل اور کسی معصیت پر کچھ زجر اور تو بیخ نہیں کرتے اور کسی بڑے گناہ پر کچھ بہت ملامت نہیں کرتے کیونکہ نو عیسائی پاک کرنے والے کفارہ کے سایہ کے نیچے آجاتے ہیں ۔ اسی طرح نو عیسائیوں کی جرأت بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ ان میں سے اکثر کی اباحت عادت ہو جاتی ہے اور اس کی بدبو کو خوشبو اور پاک خیال کرتے ہیں اور اسلام سے سخت بیزار ہو جاتے ہیں اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں بعد اس کے جو کسی وقت مسلمان تھے اور تھوڑے ایسے بھی ہیں جو شرم رکھتے ہیں ۔ اور اسی طرح کرتے رہتے ہیں تاکہ پادریوں کو راضی کریں اور ان سے پیسہ اکٹھا کریں اور مالدار ہو جائیں ۔ سو اُن کو بر ارتکاب ہیچ گونہ کار تباہ و امر منکر زبان ملام نمی کشایند۔ ہر چہ گناہے بزرگ سر برزند چندان مبالغہ در نکوہش نمی نمایند۔ بجہت اینکہ متنصّران در زیر سایہ کفارۂ پاک کنندہ جائے میگیرند۔ خلاصہ بر این نہج ہر روز جرأت و دلیری در انہامی افزا ید تا آنکہ باباحت خو گرفتہ شوند وبو ئے بدش را بوئے خوش پندارند و از اسلام بیزار و نبی کریم مارا (صلی اللہ علیہ وسلم) نا گفتنی ہا گویند بعد از انکہ وقتے مسلمان بودندو ہم چنیں رفتار دارندتا کشیشان را دردام آرند وازانہا وجہ نقدی بستانند و صاحب مال و دولت گردند۔ خلاصہ