الوجد وبتاؔ ریج الشوق إلی الرفۃ وشرب المدام۔ ثم مع ذالک کانوا من السفہاء والجہلاء ، وما کان لہم نصیب من العلم والدہاء ، ولا حظ من العفّۃ والاتقاء۔ لا جرم أنہم آثروا أہواء النفس الأمّارۃ، وألْوَتْ بہم شقوتہم إلی الخسارۃ۔ وکذالک کثیر من ذریۃ الأماثل والأفاضل والسادات، أجمعوا علی الجنوح إلیہم وسُقُوا کأس الضلالات، بما آنسوا النصرانیۃ تفتح علی المتنصرین أبواب إباحۃ، وتخرجہم من مضائق حرمۃ وعدم حلۃ، ثم یواسیہم القسوس فی مطرف أیامہم بمال ودولۃ، اور شراب نوشی کےؔ شوق سے عیسائیت کو اختیار کیا اور پھر باوجود ان حاجتوں کے وہ لوگ سفیہ اور جاہل تھے اور نہ علم اور عقل سے کچھ حصہ تھا اور نہ پرہیز گاری اور عفت سے بہرہ ۔ اسی لئے انہوں نے نفس امارہ کی خوا ہشوں کو اختیار کیا اور ان کی بد بختی نے ہلاکت اور گمراہی کی طرف ان کا منہ پھیردیا ۔ اسی طرح بہت سے بزرگوں اور سادات اور شریفوں کی اولاد عیسائیوں کی طرف جھک گئی اور گمراہی کے پیالے پئے کیونکہ انہوں نے عیسائی مذہب کو دیکھا کہ عیسائی ہونے والوں پر اباحت کے دروازے کھولے ہوئے ہیں اور حرمت اور عَدمِ حِلّت کی تنگیوں سے اُن کو باہر نکال دیا ہے ۔ پھر پادری لوگ اُن کی ابتدائی زمانہ میں مال اور دولت سے ان کی مدد کرتے ہیں و مے نوشی جامہ تنصر در بر کردند۔ بعلاوہ ہمچو کسان از نادانان و پست فطرتان و از زینت علم عاری واز لباسِ عفت و تقویٰ بکلی محروم بودند۔ از ہمیں سبب دنبال ہوائے نفسِ امّارہ افتادہ بودند۔ و شومئے بخت روئے توجہ انہار ا بسوئے زیاں کاری و تباہی بگر د انید۔ ہم چنیں بسیارے از اولاد بزرگان و شرفاء و سادات میل بہ عیسویت کردند۔ و کاسہ ہائے گمراہی را لبالب بنوشیدند زیرا کہ دیدندعیسویت بر متنصران در ہائے اباحت را کشادہ و از تمییز درمیانہ حرام و حلال انہارا بکلّی معاف داشتہ است۔ ومع این ہمہ کشیشان در آغاز حال بامال ومنال دست انہار ا میگیرند و