تشتّت شملہا، فلیبک علیہا من کان من الباکین۔ ولقد کثر أسَفی علی الآثار الأولی کیف زالت، وعلی أیام الہُدیٰ کیف أحالت، والناس ترکوا المحجّۃ ومالوا إلی أودیۃ وشعاب۔ ومنافذ صعاب، ومضائق غیر رحاب۔ وکم من أناس کانوا یزجون الزمان ببؤس فی الإسلام، وینفدون العمر بالاکتیاب والاغتمام، ثم رأوا فی الملۃ النصرانیۃ مرتعا، ووجدوا فی أہلہا مطمعا، فألجأہم شوائب المجاعۃ إلی أن یلحقوا بتلک الجماعۃ۔ فرفضوا مذہب الإسلام، وتنصروا من برحاء اور ان کی تما م جمعیت متفرق ہو گئی ۔ اب جس نے رونا ہو اس ملک پر رووے اور مجھے اسلام کے پہلے آثار پر بہت غم ہوا کہ وہ کیونکر دور ہو گئے اور نیز دنوں پر بھی افسوس ہوا کہ وہ کیسے بدل گئے اور لوگوں نے سیدھی راہ کو چھوڑ دیا اور وادیوں اور ٹیڑ ھی راہوں اور دشوار گذار اور تنگ طریقوں کی طرف جھک گئے۔ کئی ایسے آدمی تھے۔ کہ جو اسلام میں بڑی سختی سے اوقات بسری کرتے تھے اور غموں میں عمر کاٹتے تھے پھر عیسائی مذہب میں انہوں نے ایک چرا گاہ دیکھا اور عیسائیوں کو اپنی دنیوی لالچوں کا محل پایا۔ سو بھوک کی تکالیف نے ان کو اس بات کی طرف مضطر کیا کہ وہ عیسائیوں میں جا ملیں ۔ لہٰذا ا نہوں نے اسلام کو ترک کر کے سختی کی وجہ سے اور نیز عیاشی شدہ و جمعیت اوشاں از ہم پاشیدہ است۔ اکنوں باید بر ایں بلاد سر شک خون بریزد ہر کہ گریستن می خواہد و من اندوہ ہامے خورم بر آثار اولین اسلام کہ چگو نہ ناپدید گردیدہ و آں روز ہائے راستی و روشنی بہ تاریکی و سیاہی عوض شدہ۔مردم راہ راست را گزاشتہ سر بہ واد یہائے جانفر سائے مردم آزما و راہ ہائے پیچاپیچ دادہ اند۔ بسا آدم کہ در اسلام بہ تنگی بسرے بردند و روزگار بہ اندوہ می گزرانیدند درد یانہ نصاریٰ چراگاہے دیدندو نصرانیان را محلِ ہوا و آز خود یافتند۔ لہٰذا زحمت گر سنگی انہار ا بر آن آورد کہ بانصاریٰ در آمیختند واز بیم سختی و تنگی و ہم آرزوے تن پروری