اور تواتر شہادت سے کمال درجہ کے یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ بزرگ جن کا نام کشمیر کے مسلمانوں نے یوزآسف رکھ لیا ہے یہ نبی ہیں اور نیز شہزادہ ہیں۔ اس ملک میں کوئی ہندوؤں کا لقب ان کا مشہور نہیں ہے جیسے راجہ یا اوتار یا رِکھی ومُنی وسِدّہ وغیرہ بلکہ بالاتفاق سب نبی کہتے ہیں اور نبی کا لفظ اہل اسلام اور اسرائیلیوں میں ایک مشترک لفظ ہے۔ اور جبکہ اسلام میں کوئی نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نہیں آیا اور نہ آ سکتا تھا اس لئے کشمیر کے عام مسلمان بالاتفاق یہی کہتے ہیں کہ یہ نبی اسلام کے پہلے کا ہے۔ ہاں اس نتیجہ تک وہ اب تک نہیں پہنچے کہ جبکہ نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نبیوں میں مشترک تھا یعنی مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتا تو بالضرور یہی متعیّن ہوا کہ وہ اسرائیلی نبی ہے کیونکہ کسی تیسری زبان نے کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ بلاشبہ اس اشتراک کا صرف دو زبانوں اور دو قوموں میں تخصیص ہونا لازمی ہے۔* مگر بوجہ 3نبوت اسلا می قوم اس سے باہر نکل گئی۔ لہٰذا صفائی سے یہ بات طے ہو گئی کہ یہ نبی اسرائیلی نبی ہے۔ پھر اس کے بعد تواتر تاریخی سے یہ ثابت ہو جانا کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے پہلیؔ دلیل پر اور بھی یقین کا رنگ چڑھاتا ہے اور زیرک دلوں کو زور کے ساتھ اس طرف لے آتا ہے کہ یہ نبی
ملکوں میں آ گئے تھے۔ سو اسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے۔
ڈاکٹر برنیر صاحب فرانسیسی اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اِس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرؔ ائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ملک میں آئے تھے۔ اور اُن کے کتابی چہرے اور لمبے کُرتے اور بعض رسوم اس بات کے
* نوٹؔ : نبی کا لفظ صرف دو زبانوں سے مخصوص ہے اور دنیا کی کسی اور زبان میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا یعنی ایک تو عبرانی میں یہ لفظ نبی آتا ہے اور دوسری عربی میں۔ اس کے سوا تمام دنیا کی اور زبانیں اس لفظ سے کچھ تعلق نہیں رکھتیں۔ لہٰذا یہ لفظ جو یوز آسف پر بولا گیا کتبہ کی طرح گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص یا اسرائیلی نبی ہے یا اسلامی نبی مگر ختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی اور نبی نہیں آ سکتا لہٰذا متعیّن ہوا کہ یہ اسرائیلی نبی ہے۔ اب جو مدت بتلائی گئی ہے اُس پر غور کرکے قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور وہی شہزادہ کے نام سے پکارے گئے ہیں۔ منہ