حضرت مسیح علیہ السلام ہیں کوئی دوسرا نہیں کیونکہ وہی اسرائیلی نبی ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرے ہیں۔پھر بعد اس کے اس متواتر خبر پر غور کرنے سے کہ وہ نبی شہزادہ بھی کہلاتا ہے یہ ثبوت نورٌ علٰی نور ہو جاتا ہے کیونکہ اس مدت میں بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی نبی شہزادہ کے نام سے کبھی مشہور نہیں ہوا۔ پھر یوز آسف کا نام جو یسوع کے لفظ سے بہت ملتا ہے ان تمام یقینی باتوں کو اَور بھی قوت بخشتا ہے۔ پھر موقعہ پر پہنچنے سے ایک اور دلیل معلوم ہوئی ہے کہ جیسا کہ نقشۂ منسلکہ میں ظاہر ہے اس نبی کی مزار جنوباً و شمالاً واقع ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پَیر ہیں اور یہ طرزِ دفن مسلمانوں اور اہلِ کتاب سے خاص ہے اور ایک اَور تائیدی ثبوت ہے کہ اس مقبرہ کے ساتھ ہی کچھ تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑ کوہ سلیمان کے نام سے مشہور ہے۔ اس نام سے بھی پتہ ملتا ہے کہ کوئی اسرائیلی نبی اس جگہ آیا تھا *۔یہ نہایت درجہ کی جہالت ہے کہ اس شہزادہ نبی کو ہندو قرار دیا جائے۔ اور یہ ایسی غلطی ہے کہ ان روشن ثبوتوں کے سامنے رکھ کر اس کے ردّ کی بھی حاجت نہیں۔ سنسکرت میں کہیں نبی کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ عبرانی اور عربی سے خاص ہے اور دفن کرنا ہندوؤں کا طریق نہیں۔ اور ہندو لوگ تو اپنے مُردوں کو جلاتے ہیں لہٰذا قبر کی صورت بھی قطعی یقین دلاتی ہے کہ یہ نبی اسرائیلی ہے قبر کے مغربی پہلو کی طرف ایک سوراخ واقع ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس سوراخ سے نہایت
گواہ ہیں۔ پس نہایت قرین قیاس ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر اس ملک میں تبلیغ قوم کے لئے آئے ہوں گے۔ حال میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کو لندن سے مَیں نے منگوایا ہے وہ بھی اِس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور جو بعض مصنفوں نے واقعات یوز آسف نبی کے لکھے ہیں جن کے یورپ کے ملکوں میں بھی ترجمے پھیل گئے ہیں ان کو پادری لوگ بھی پڑھ کر سخت حیران ہیں کیونکہ وہ تعلیمیں انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت ملتی ہیں بلکہ اکثر عبارتوں میں توارد معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی تبتی انجیل کا انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت تواردہے۔ پس یہ ثبوت ایسے نہیں ہیں کہ
* یہ ؔ ضرور نہیں کہ سلیمان سے مراد سلیمان پیغمبر ہوں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسرائیلی امیر ہو گا جس کے نام سے یہ پہاڑ مشہور ہو گیا۔ اس امیر کا نام سلیمان ہو گا۔ یہ یہودیوں کی اب تک عادت ہے کہ نبیوں کے نام پر اب تک نام رکھ لیتے ہیں۔ بہرحال اس نام سے بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہود کے فرقہ کی کشمیر میں گذر ہوئی ہے جن کے لئے حضرت عیسیٰ کا کشمیر میں آنا ضروری تھا۔ منہ