خط ؔ مولوی عبداﷲ صاحب باشندۂ کشمیر
فائدہ عام کے لئے معہ نقشہء مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام
اس اشتہار میں شائع کیا جاتا ہے
از جانب خاکسار عبداﷲ بخدمت حضور مسیح موعود السَّلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہٗ
حضرت اقدس! اس خاکسار نے حسب الحکم سرینگر میں عین موقعہ پر یعنی روضہ مزار شریف شاہزادہ یوز آسف نبی اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پہنچ کر جہاں تک ممکن تھا بکوشش تحقیقات کی اور معمّر اور سن رسیدہ بزرگوں سے بھی دریافت کیا اور مجاور وں اور گرد و جوار کے لوگوں سے بھی ہر ایک پہلو سے استفسار کرتا رہا۔
جناب من عند التحقیقات مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ مزار درحقیقت جناب یوزآسف علیہ السلام نبی اﷲ کی ہے اور مسلمانوں کے محلہ میں یہ مزار واقع ہے۔ کسی ہندو کی وہاں سکونت نہیں اور نہ اُس جگہ ہندوؤں کا کوئی مدفن ہے۔ اور معتبر لوگوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قریباً اُنیس سو ۱۹۰۰ برس سے یہ مزار ہے۔ اور مسلمان بہت عزّت اور تعظیم کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی زیارت کرتے ہیں۔ اور عام خیال ہے کہ اس مزار میں ایک بزرگ پیغمبر مدفون ہے جو کشمیر میں کسی اور ملک سے لوگوں کو نصیحت کرنے کے لئے آیا تھا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے قریبًا چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔ یہ اب تک نہیں کھلا کہ اس ملک میں کیوں* آیا ۔ مگر ؔ یہ واقعات بہرحال ثابت ہو چکے ہیں۔
وہ نبی جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں۔ اور یسوؔ ع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرینِ قیاس ہے کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جِیزَس بنا لیا ہے تو یوز آسف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیرّ نہیں ہے۔ یہ لفظ سنسکرت سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔ صریح عبرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے اس کا سبب ظاہر ہے۔ اور وہ ؔ یہ ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اور نیز دعا کو قبول کرکے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دے دی۔ اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ اُن یہودیوں کو بھی خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا ویں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے