کرنے ؔ سے یعنی پنڈت لیکھرام کی موت کی پیشگوئی سے منکروں کو ذلیل اور رسوا کر دیا۔ یہ پیشگوئی اس مرتبہ پر فوق العادت تھی کہ اس میں قبل از وقت یعنی پانچ برس پہلے بتایا گیا تھا کہ لیکھرام کس دن کس قسم کی موت سے مرے گا۔ لیکن افسوس کہ بخیل لوگوں نے جن کو مرنا یاد نہیں اس پیشگوئی کو بھی قبول نہ کیا اور خدا نے بہت سے نشان ظاہر کئے مگر یہ سب سے انکار کرتے ہیں۔ اب یہ اشتہار ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء آخری فیصلہ ہے۔ چاہیئ کہ ہر ایک طالب صادق صبر سے انتظار کرے۔ خدا جھوٹوں کذابوں دجالوں کی مدد نہیں کرتا۔ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ عہد ہے کہ وہ مومنوں اور رسولوں کو غالب کرتا ہے۔ اب یہ معاملہ آسمان پر ہے ،زمین پر چلّانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دونوں فریق اُس کے سامنے ہیں اور عنقریب ظاہر ہو گا کہ اُس کی مدد اور نصرت کس طرف آتی ہے۔ و اٰخر دعوانا اَن الحمد للّٰہ رب العالمین۔ والسّلام علٰی من اتبع الھُدیٰ المشتھر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء توریت میں وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل نبی موعود کے پیرو ہو کرحکومت اور سلطنت پائیں گے۔ غرض مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اور یہی وہ خیال ہے کہ جو نصاریٰ کے چالیس کروڑ انسانوں کے دلوں میں سرایت کر گیا ہے۔ اور اس کے غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اگر عیسائیوں میں کوئی فرقہ دینی تحقیق کا جوش رکھتا ہے تو ممکن ہے کہ ان ثبوتوں پر اطلاع پانے سے وہ بہت جلد عیسائی مذہب کو الوداع کہیں اور اگر اس تلاش کی آگ یورپ کے تمام دلوں میں بھڑک اُٹھے تو جو گروہ چالیس کروڑ انسان کا انیس سو برس میں تیار ہؤا ہے ممکن ہے کہ اُنیس ماہ کے اندر دست غیب سے ایک پلٹا کھا کر مسلمان ہو جائے۔ کیونکہ صلیبی اعتقاد کے بعد یہ ثابت ہونا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مارے گئے بلکہ دوسرے ملکوں میں پھرتے رہے یہ ایسا امر ہے کہ یکدفعہ عیسائی عقائد کو دلوں سے اڑاتا ہے اور عیسائیت کی دنیا میں انقلاب عظیم ڈالتا ہے۔ اے عزیزو! اب عیسائی مذہب کو چھوڑو کہ خدا نے حقیقت کو دکھا دیا۔ اسلام کی روشنی میں آؤ تا نجات پاؤ اور خدائے علیم جانتا ہے کہ یہ تمام نصیحت نیک نیتی سے تحقیق کامل کے بعد کی گئی ہے۔ منہ