مَیں ؔ نے تو اُس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر مَیں کاذب ہوں تو مَیں پہلے مروں گا۔ ورنہ مَیں آتھم کی موت کو دیکھوں گا سو اگر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈ کر لاؤ کہ کہاں ہے۔ وہ میری عمر کے قریب قریب تھا اور عرصہ تیس ۳۰ برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تیس برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا۔ پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ انہی دنوں میں جب کہ اُس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔ خدااُن دلوں پر *** کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلمِ صریح تھا اس لئے اُس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ انہی قدرتوں سے وہ پہنچانا گیا ہے۔ دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ 33۱؂ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا۔ اور اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔ کیا مسیح کی تمام رات کی درد مندانہ دُعا رد ہو سکتی تھی۔ کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبرمیں رہوں گا اِس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرا رہا تھا۔ کیا پیلا طوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا نہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچا لے۔ ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔ بھلا مقبول کی ایسی دُعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔ پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکارو کہ تمہیں آ کر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔ غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آ گئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے۔ اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ