اے ؔ حیا و شرم سے دُور رہنے والو! ذرہ اس بات کو تو سوچو کہ وہ شہادت کے اخفا کے بعد کیوں جلد مر گیا۔
کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس سے یک دفعہ عیسائی مذہب کا تمام تانا بانا ٹوٹتا ہے اور انیس سو برس کا منصوبہ یکدفعہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس بات کا اطمینان ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک ہند اور کشمیر وغیرہ میں آنا ایک واقعی امر ہے۔ اور اس کے بارے میں ایسے زبردست ثبوت مل گئے ہیں کہ اب وہ کسی مخالف کے منصوبہ سے چھپ نہیں سکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان بیہودہ اور غلط عقائد کی اِسی زمانہ تک عمر تھی۔ ہمارے سیّد و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا ہے صلیب کو توڑے گا اور آسمانی حربہ سے دجّال کو قتل کرے گا۔ اس حدیث کے اب یہ معنے کھلے ہیں کہ اُس مسیح کے وقت میں زمین و آسمان کا خدا اپنی طرف سے بعض ایسے امور اور واقعات پیدا کر دے گا جن سے صلیب اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد خود بخود نابود ہو جائیں گے مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسرِ صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جائیں گی۔ سو ایسا ہی ہوا۔ یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ صد ہا طبّی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا اس بات کی کس کو خبر تھی کہ بدھ مذہب کی پرانی کتابوں سے یہ ثبوت مل جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلادِ شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر ہندوستان اور کشمیر اور تبّت کی طرف آئے تھے۔ * یہ بات کون جانتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر میں قبر ہے۔ کیا انسان کی طاقت میں تھا کہ ان تمام باتوں کو اپنے زور سے پیدا کر سکتا۔ اب یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔ اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو وہ صدمہ پہنچتا ہے جو اُس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کاتمام بوجھ ایک شہتیر پر تھا۔ شہتیر ٹوٹا اور چھت گری۔ پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت
* نوٹ :۔ حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھااور شہزادہ بھی تھا۔ اور کشمیر میں اُس نے انتقال کیا۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ ۶۰۰سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے گزرا ہے۔ منہ