ڈاکٹرؔ کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسرمقابلہ کیا تھا وہ تو اب تک زندہ موجود ہے، جواب یہ مضمون لکھ رہا ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوانح بدھ مذہب میں لکھے گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں بدھ مذہب کا بہت زور تھا اوربید کا مذہب مر چکا تھا اور بدھ مذہب بید کا انکار کرتا تھا۔*
خلاصہ یہ کہ ان تمام امور کو جمع کرنے سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے۔ یہ بات یقینی اور پختہ ہے کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں اُن کے اس ملک میں آنے کا ذکر ہے اور جو مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس ۱۹۰۰سو برس سے ہے۔ یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔ غالباً اُس مزار کے ساتھ کچھ کتبے ہوں گے جو اب مخفی ہیں۔ ان تمام امور کی مزید تحقیقات کے لئے ہماری جماعت میں سے ایک علمی تفتیش کا قافلہ طیار ہو رہا ہے جس کے پیشر و اخویم مولوی حکیم حاجی حرمین نور الدین صاحب سَلّمہٗ ربّہٗ قرار پائے ہیںیہ قافلہ اس کھوج اور تفتیش کے لئے مختلف ملکوں میں پھرے گا اور ان سرگرم دینداروں کا کام ہو گا کہ پالی زبان کی کتابوں کو بھی دیکھیں کیونکہ یہ بھی پتہ لگا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اُس نواح میں بھی گُم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں گئے تھے۔ لیکن بہر حال کشمیر جانا اور پھر تبت میں جا کر بدھ مذہب کی پستکوں سے یہ تمام پتہ لگانا اس جماعت کا فرض منصبی ہو گا۔ اخویم شیخ رحمت اﷲ صاحب تاجر لاہور نے ان تمام اخراجات کو اپنے ذمہ قبول کیا ہے۔ لیکن اگر یہ سفر جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بنارس اور نیپال اور مدراس اور سوات اور کشمیر اور تبّت وغیرہ ممالک تک کیا جائے جہاں جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی بودوباش کا پتہ ملا ہے تو کچھ شک نہیں کہ یہ بڑے اخراجات کا کام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہر حال اﷲ تعالیٰ اس کو انجام دے دے گا۔ ہر ایک دانش مند سمجھ سکتاہے
* صرف یہی بات نہیں کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہندوستان اور تبّت میں آنے کا تذکرہ ہے بلکہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کی پُرانی تحریروں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ منہ