کہا ںؔ ہے؟کیا وہ زندہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ کئی برس سے مر چکا مگر جس شخص کے ساتھ اُس نے
یہ انجیل بدھ مذہب کی ایک پُرانی کتاب کا گویا ایک حصّہ ہے۔ بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک ہند میں آئے اورؔ ایک مدت تک مختلف قوموں کو وعظ کرتے رہے ۔ اور بدھ مذہب کی کتابوں میں جو اُن کے ان ملکوں میں آنے کا ذکر لکھا گیا ہے اُس کا وہ سبب نہیں جو لانبے بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیم استفادہ کے طور پر پائی تھی ایسا کہنا ایک شرارت ہے ، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب سے نجات بخشی تو انہوں نے بعد اس کے اس ملک میں رہنا قرینِ مصلحت نہ سمجھا اور جس طرح قریش کے انتہائی درجہ کے ظلم کے وقت یعنی جب کہ انہوں نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے ملک سے ہجرت فرمائی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کے انتہائی ظلم کے وقت یعنی قتل کے ارادہ کے وقت ہجرت فرمائی۔ اور چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلادِ ہند اور کشمیر اور تبّت اور چین کی طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا۔ اور تواریخ سے اس بات کا بھی پتہ ملتا ہے کہ بعض یہودی اس ملک میں آ کر اپنی قدیم عادت کے موافق بدھ مذہب میں بھی داخل ہو گئے تھے۔ چنانچہ حال میں جو ایک مضمون
سول ملٹری گزٹ پرچہ تاریخ ۲۳؍ نومبر ۱۸۹۸ ء میں چھپا ہے اُس میں ایک محقّق انگریز نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے اور اس بات کو بھی مان لیا ہے کہ بعض جماعتیں یہودیوں کی اس ملک میں آئی تھیں اور اس ملک میں سکونت پذیر ہوگئی تھیں اور اُسی پرچہ سول میں لکھا ہے کہ ’’ دراصل افغان بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں‘‘ غرض جب کہ بعض بنی اسرائیل بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے تو ضرور تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آ کر بدھ مذہب کے ردّ کی طرف متوجہ ہوتے اور اس مذہب کے پیشواؤں کو ملتے۔ سو ایسا ہی وقوع میں آیا۔ اسی وجہ سے