اسؔ یقین سے نہیں بھرتے کہ وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر زندہ رہا اور پھرالہام الہٰی کی خبر کے موافق اخفاء شہادت کی وجہ سے مر گیا۔ اب دیکھو تلاش کرو کہ آتھم
اس بات کا انکار ہے کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ مختلف قوموں کی کتابوں میں پایا جاتاہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس واقعہ کے سننے سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے بلکہ زندہ مگر مجروح ہونے کی حالت میں رہائی پائی بڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور خیال کیا کہ اس سے تمام منصوبہ کفارہ کا باطل ہوتا ہے۔ لیکن یہ قابل شرم بات ہے کہ اُن کتابوں کے وجود سے ا نکار کیا جائے جن میں یہ نسخہ مرہم عیسیٰ موجود ہے۔ اگر وہ طالب حق ہیں تو ہمارے پاس آ کر اُن کتابوں کو دیکھ لیں۔ اور صرف عیسائیوں کے لئے یہی مصیبت نہیں کہ مرہم عیسیٰ کی علمی گواہی اُن عقائد کو ردّکرتی ہے اور تمام عمارت کفارہ و تثلیث وغیرہ کی یکدفعہ گر جاتی ہے بلکہ ان دنوں میں اس ثبوت کی تائید میں اَور ثبوت بھی نکل آئے ہیں کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبّت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے۔ اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے اُن کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوزآسف نبی کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال میں تبّت سے برآمد ہوئی ہے۔ یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اﷲ صاحب تاجر قریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔ آخر ایک جگہ سے میسّر آ گئی۔
ٌٌ*نوٹ :۔ ایک نادان مسلمان نے اپنے دل سے ہی یہ بات پیش کی ہے کہ شاید یوز آسف سے زوجہ آصف مراد ہو جو سلیمان کا وزیر تھا۔ مگر اُس جاہل کو یہ خیال نہیں آیا کہ زوجہ آصف نبی نہیں تھی اور اُس کو شہزادہ نہیں کہہ سکتے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ دونوں مذکر نام ہیں۔ مؤنث کے لئے اگر وہ یہ صفات بھی رکھتی ہو نبیّہ اور شہزادی کہا جائے گا۔ نہ نبی اور شہزادہ۔ اس سادہ لوح نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ اُنیس سو کی مدت حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے ہی مطابق آتی ہے۔ سلیمان تو حضرت عیسیٰ سے کئی سو برس پہلے تھا۔ ماسوا اِس کے اس نبی کی قبر کو جو سری نگر میں واقع ہے بعض یوز آسف کے نام سے پکارتے ہیں مگر اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ ہمارے مخلص مولوی عبد اﷲ صاحب کشمیری نے جب سری نگر میں اس مزار کی نسبت تفتیش کرنا شروع کیا تو بعض لوگوں نے یوز آسف کا نام سُن کر کہا کہ ہم میں وہ قبر عیسیٰ صاحب کی قبر مشہورہے۔ چنانچہ کئی لوگوں نے یہی گواہی دی جو اب تک سری نگر میں زندہ موجود ہیں جس کو شک ہو وہ خود کشمیر میں جا کر کئی لاکھ انسان سے دریافت کرلے اب اس کے بعد انکار بے حیائی ہے۔ منہ