نہ تھا ؔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولاد تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مرتد ہوا تھا اسلامی چاشنی رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے اُس کو پورے طور پر عیسائیوں کے عقیدہ سے اتفاق بھی نہیں تھا۔ اور میری نسبت وہ ابتدا سے نیک ظن رکھتا تھا۔ لہٰذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس تھا۔ پھر جب کہ اُس نے قسم کھا کر اپنی عیسائیت ثابت نہ کی اور نہ نالش کی اور چور کی طرح ڈرتا رہا اور عیسائیوں کی سخت تحریک سے بھی وہ ان کاموں کے لئے آمادہ نہ ہؤا تو کیا اس کی یہ حرکات ایسی نہ تھیں کہ اُس سے یہ نتیجہ نکلے کہ وہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے ضرورڈرتا رہا۔ غافل زندگی کے لوگ تو نجومیوں کی پیشگوئیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ ایسی پیشگوئی جو بڑے شدّو مد سے کی گئی تھی۔ جس کے سُننے سے اُسی وقت اُس کا رنگ
زرد ہو گیا تھا۔ جس کے ساتھ درصورت نہ پورے ہونے کے مَیں نے اپنے سزا یاب ہونے کا وعدہ کیا تھا پس اس کا رُعب ایسے دلوں پر جو دینی سچائی سے بے بہرہ ہیں کیونکر نہ ہوتا۔ پھر جب کہ یہ بات صرف قیاسی نہ رہی بلکہ خود آتھم نے اپنے خوف اور سراسیمگی اور دہشت زدہ ہونے کی حالت سے جس کو صد ہا لوگوں نے دیکھا اپنی اندرونی بے قراری اور اعتقادی حالت کے 3کو ظاہر کر دیا اور پھر بعد میعاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اُس 3کی حالت کو اَور بھی یقین تک پہنچایا اور پھر الہام الٰہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا تو کیا یہ تمام واقعات ایک منصف اور خدا ترس کے دل کو
اور اپنے زخم اُن کو دکھلائے۔ پس اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت زخم موجود تھے جن کے لئے مرہم طیار کرنے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا یقیناًسمجھا جاتا ہے کہ ایسے موقعہ پر وہ مرہم طیار کی گئی تھی۔ اور انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس روز اُسی گردو نواح میں بطور مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تب آپ نے سیاحت اختیار کی۔ افسوس کہ ایک ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی سے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اُن کو