اورؔ رسوا کرے گا۔ اور یہ ایک کھلا کھلا معیار صادق و کاذب تھا جو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے قائم کیا تھا اور چاہیئ تھا کہ یہ لوگ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد چُپ ہو جاتے اور ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۰ ؁ء تک خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ زٹلی مذکور نے اپنے اشتہار ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء میں وہی گند پھر بھر دیا جو ہمیشہ اس کا خاصہ ہے اور سراسر جھوٹ سے کام لیا۔ وہ اس اشتہار میں لکھتا ہے کہ کوئی پیشگوئی اس شخص یعنی اس عاجز کی پوری نہیں ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ ہم اس کے جواب میں بھی بجز لعنۃ اللّہ علی الکاذبین کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اصل تو یہ ہے کہ جب انسان کا دل بخل اور عناد سے سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا اور سنتے ہوئے نہیں سُنتا۔ اُس کے دل پر خدا کی مہر لگ جاتی ہے۔ اُس کے کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ یہ بات اب تک کس پر پوشیدہ ہے کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی شرطی تھی اور خدا کے الہام نے ظاہر کیا تھا کہ وہ رجوع الی الحق کی حالت میں میعاد کے اندر مرنے سے بچ جائے گا۔ اور پھر آتھم نے اپنے افعال سے اپنے اقوال سے اپنی سراسیمگی سے اپنے خوف سے اپنے قسم نہ کھانے سے اپنے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ ایّام پیشگوئی میں اُس کا دل عیسائی مذہب پر قائم نہ رہا اور اسلام کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ گئی اور یہ کچھ بعید برخلاف لکھا ہے تو اُن کی گواہی ایک ذرّہ اعتبار کے لائق نہیں کیونکہ اوّل تو وہ لوگ واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہیں تھے اور اپنے آقا سے طرز بے وفائی اختیار کر کے سب کے سب بھاگ گئے تھے اور دوسرے یہ کہ انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ ان ہی انجیلوں میں جو بڑی معتبر سمجھی جاتی ہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعۂ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے۔