پر تضرؔ عات کے ساتھ گرتے ہیں اور ان کی درد مندانہ دعاؤں کا آسمان پر ایک صعب ناک شور پڑتا ہے اور جس طرح بہت سی گرمی کے بعد آسمان پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بادل کے نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ جمع ہو کر ایک تہ بتہہ بادل پیدا ہو کر یکدفعہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی مخلصین کے دردناک تضرعات جو اپنے وقت پر ہوتے ہیں رحمت کے بادلوں کو اُٹھاتے ہیں اور آخر وہ ایک نشان کی صورت پر زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ غرض جب کسی مرد صادق ولی اﷲ پر کوئی ظلم انتہا تک پہنچ جائے تو سمجھنا چاہیئ کہ اب کوئی نشان ظاہر ہو گا۔
ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است
زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است
مجھے افسوس سے اس جگہ یہ بھی لکھنا پڑا ہے کہ ہمارے مخالف نا انصافی اور دروغگوئی اور کجروی سے باز نہیں آتے۔ وہ خدا کی باتوں کی بڑی جرأت سے تکذیب کرتے اور خدائے
جلیل کے نشانوں کو جھٹلاتے ہیں۔ مجھے امید تھی کہ میرے اشتہار ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ ء کے بعد جو بمقابلہ شیخ محمد حسین بٹالوی اور محمد بخش جعفرز ٹلی اور ابو الحسن تبتی کے لکھا گیا تھا۔ یہ لوگ خاموش رہتے کیونکہ اشتہار میں صاف طور پر یہ لفظ تھے کہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۰ ء تک اس بات کی میعاد مقرر ہو گئی ہے کہ جو شخص کاذب ہو گا خدا اُس کو ذلیل
ممکن تھا ایک بڑا ذخیرہ طبّی کتابوں کا جمع کیا تھا ۔اور مَیں نے خود طب کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان کتابوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا۔ اس لئے مَیں اپنی ذاتی واقفیت سے بیان کرتاہوں کہ ہزار کتاب سے زیادہ ایسی کتاب ہو گی جن میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے۔ اور ان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لیے بنائی گئی تھی۔ ان کتابوں میں سے بعض یہودیوں کی کتابیں ہیں اور بعض عیسائیوں کی اور بعض مجوسیوں کی۔ سو یہ ایک علمی تحقیقات سے ثبوت ملتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب سے رہائی پائی تھی اگر انجیل والوں نے اس کے