من الخاطئین۔ وعجبوا أن جاء ہم مأمور من ربہم وقالوا إن ہذا إلَّا من المفترین وقد کانوا من قبل علٰی رأس الماءۃ من المنتظرین۔ وإنہ جاء!ھم لإعزازہم، وجہّزہم بجہازہم، وآتاہم ما یُفحم قومًا مفسدین۔ أما عرفوا وقتہ أو جاء عندہم فی غیر حین؟ وإن أیام اللّٰہ قد أتت، وقرب یوم الفصل فبشریٰ للذین یقبلونہ شاکرین۔ یریدون أن یطأوا ما أراد اللّٰہ أن یُعلیہ ویُجادلون بغیر علم وبرہان مبین۔ وکتب اللّٰہ أن یجعل عبادہ المرسلین غالبین، فلیحاربوا اللّٰہ إن کانوا قادرین، وما کان الأمرمشتبہا عقید ہ ہمارے لئے کا فی ہے ۔ اور ان کو اس بات سے تعجب ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور آگیا اور انہوں نے کہا یہ تو مفتری آدمی ہے۔ اور پہلے صدی کے سر پر انتظار کر رہے تھے۔ اور وہ ان کو عز ت دینے کے لئے آیا اور اس نے ان کا تمام سامان طیار کیا اور وہ و سائل ان کو دیئے جس سے مخالف لا جواب ہو جائیں کیا انہوں نے اس مامور کے وقت کو شناخت نہیں کیا یا وہ ان کے پاس بے وقت آیا ہے ۔ اور بہ تحقیق خدا تعالیٰ کے دن آ گئے اور فیصلے کا دن قریب ہو گیا ۔ پس انہیں بشارت ہو کہ جو شکر کے ساتھ قبول کریں۔کیا ان کا یہ ارادہ ہے کہ جس کو خدابلند کرنا چاہتا ہے اس کو پامال کر دیں اور ناحق بحث مباحثہ کرتے رہیں اور خدا نے تو یہ لکھ چھوڑا ہے کہ اس کے بھیجے ہو ئے بندے غالب ہوں گے ۔پس کیا وہ خد ا سے لڑ سکتے ہیں۔ اور بات مشتبہ نہیں تھی مگر گرویدہ اند۔و ایشاں در شگفت بماندند کہ چگونہ از جانب خدا آمد و او را مفتری و دروغ باف گفتند و بر سر صد چشم در را ہش بودند۔ حال آنکہ او از بہر ہمیں آمدہ است کہ آبروئے شان را بیفزاید و سامانے و موادے دردست شاں بداد کہ تا بر اعدائے اسلام بحجت و برہان چیرہ و توانابشوند۔ آیا ایشان وقت ایں مامور را نہ شناختہ اند یا او نزد ایشاں در غیر وقت آمدہ است۔ ہمانا ایام اللہ آمدہ و یوم فصل قریب است۔مژدہ آنان را کہ از کمال منت پزیری او را قبول نمایند۔ آیا می خواہند کسے را کہ خدا میخواہد بر افرازو پائے بر سروے بگذارند و پیکا رہائے بیہودہ وپر خاشہائے لا طائل باوے بر پابدارند۔ وخدا مکتوب کرد است کہ البتہ فرستادہایش منصور