الدجّال وعاث فی العوام، وقیل إنہ ینزل بمکۃ أمّ القری، وقیل ینزل بالمسجد الأقصی، وکذالک قیل أقوال أخریٰ۔ وزادت الاختلافات بزیادۃ الأقوال حتی صار الوصول إلی الحق کالأمر المحال۔ وقد ورد فی أخبار خیر الکائنات، علیہ أفضل الصلوۃ والتحیات، أن المسیح یرفع الاختلافات، ویجعلہ اللّٰہ حَکمًا فیحکم فیما شجر بین الأمۃ من اختلاف الآراء والاعتقادات۔ فالذین یُحکّمونہ فی تنازعاتہم ثم لا یجدوا فی أنفسہم حرجًا مما قضٰی لرفع اختلافاتہم، بل یقبلونہ لصفاء نیّاتہم، فأولٰئک ہم المؤمنون حقّا وأولئک من المفلحین۔ ویقول الذین أعرضوا حسبنا ما وجدنا علیہ آباء نا ولو کان آباؤہم اور بعض مکہ معظمہ اور بعض بیت المقدس اور بعض اور اور جگہیں اس کے نزول کی قرار دیتے ہیں ۔ اور احا دیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ان اختلافات کو خود مسیح آکر دور فرمائے گا۔ اور خدا اس کو فیصلہ کے لئے حَکم مقرر کر دے گا ۔پس جو لوگ اس کو حَکممان لیں گے اور اس کے فیصلہ سے تنگ دل نہیں ہوں گے اور صفاءِ نیت سے قبول کریں گے وہی سچے مومن ہوں گے۔ اور جو لوگ قبول نہیں کریں گے وہ کہیں گے کہ جس عقیدہ پر ہم نے اپنے بزرگوں کو پایا وہی ظہور او مقام دجال باشد و بعضے مکہ معظمہ و بعضے بیت المقدّس و ہمچنین مقامات متفرقہ از بہر نزول او تخمین کنند۔ و در احادیث آمدہ کہ ایں نوع اختلافات را مسیح موعود خود رفع و فصل خواہد کرد۔ آناں کہ او را حَکَم بپذیرند و از قضاء وتحکیم وے تنگی و قبض دردل نیابند مومن آناں باشد ۔ و منکران گویند کہ ما را ہماں عقیدہ ہا بس است کہ پدران ما بآنہا