وقیل لا مہدی إلَّا عیسی، وکذالک اختلف فی نزول عیسٰی، فالقرآن یشہد أنہ مات ولحق الموتٰی، وقیل أنہ ینزل من السماوات العلٰی، وأنہ حیّ وما مات وما فنا، وقال قوم أنہ مات کما بیّن الفرقان الحمید، ولا یُخالفہ إلَّا العنید۔ وقال ہؤلاء انہ لا ینزل إلَّا علی طور البروز، وذہب إلیہ کثیر من المعتزلۃ وکرام الصوفیہ من أہل الرموز۔ والذین اعتقدوا بنزولہ من السماء فہم اختلفوا فی محلّ النزول وتفرقوا فی الآراء ، فقیل إنہ ینزل بدمشق عند منارۃ، ویوافی أہلہ علی غرارۃ، وقیل ینزل ببعض معسکر الإسلام، وقیل بأرض وطأہا اور بعض کہتے ہیں کہ کوئی دو سرا مہدی نہیں عیسیٰ ہی مہدی ہے اور وہی آئے گا اور کوئی نہیں ہو گا اور اسی طرح اور بھی قول ہیں اور اسی طرح مسیح کے نزول میں اختلاف ہے پس قرآن گواہی دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور وہ زندہ ہیں مرے نہیں اور ایک قوم نے یہ کہا ہے کہ وہ درحقیقت مر گیا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے اور اس قو ل کی مخالفت وہی کرے گا جو حق کے مقابل پر نا حق جھگڑتا ہے اور جو لوگ اس کی موت کے قائل ہیں ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مسیح کا نزول بطور بروز کے ہو گا اور معتزلہ اور اکابر صوفیوں کا یہی مذہب ہے ۔اور جو لوگ نزول آسمان کے قائل ہیں ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ وہ دمشق کے منارہ کے پاس نازل ہو گا اور بعض اس کی فرود گا ہ لشکر اسلام قرار دیتے ہیں اور بعض وہ جو دجّال کے ظہور کی جگہ ہے ہیچ مہدی غیر عیسیٰ نخواہد بود۔ ہماں خواہدآمد و دیگرے غیر وے نیست۔ ہم چنین درباب نزول عیسیٰ اختلافات واقع است۔قرآن گواہی دہد کہ حضرت عیسیٰ فوت کرد۔ قول دیگر آنکہ او از آسمان نازل بشود و ہنوز زندہ است و نمردہ۔و قومے بر آنند کہ او بحقیقت مردہ است بر وفق آنچہ قول قرآن کریم است۔ وخلاف ایں قول کسی راہ رود کہ بمقابل حق ہرزہ ستیرہ کاری کند۔ از قائلین مرگ مسیح اکثر بر آنند کہ نزولش بطور بروز افتد۔ و معتزلہ و اکابر صوفیہ بر ہمیں مسلک رفتار کردہ اند۔ اماقائلان نزول از آسمان پس بعضے از ایشاں گویند کہ او در نزد منارۂ دمشق فرود آید۔ و بعضے گویند در لشکر اسلام نزول فرماید۔ و بعضے بر آنند کہ