المشترک أعنی ظہور المسیح الحکم المہدی ثابت بدلائل قطعیۃ، ولیس فیہ من کلمات مشککۃ۔ وأمّا غیرہ من الروایات، ففیہا اختلافات وتناقضات حیّرت عقول المحدّثین، وأظلمت درایۃ المتقین، وجنّ لیل الاستہامۃ علی العالمین۔ وجمعوا تناقضات فی أقوالہم، وما نقّحوا قولا باستدلالہم، ووقعوا فی دُؤلول کالہائمین۔ فقیل إن المہدی من
بنی العباس، وقیل ہو من بنی الفاطمۃ التی ہی من أزکی الناس۔ وقیل ہو رجل من بنی الحسین، وقیل ہو من آل رسول الثقلین،
وقیل ہو رجل من أمّۃ سیّد الکونین
ایک شخص کا جس کا نام مسیح اور حَکَم اور مہدی ہے دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور اس میں کوئی شک ڈالنے والا نہیں اور باقی راویتوں میں اختلاف اور تنا قض ہے جس میں محدثوں کی عقل حیرا ن ہے اور فقیہوں کی درایت تاریک ہے ۔ اور عالموں کے دلوں پر سرگردانی کی رات محیط ہو رہی ہے اور انہوں نے بہت سے تناقض اپنے قولوں میں جمع کئے ہیں اور کسی قول کو دلیل کے ساتھ منقح کر کے بیان نہیں کیا اور گرداب حیرت میں پڑ ے ہو ئے ہیں ۔چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ مہدی بنی عباس سے ہو گا اور بعض خیال کرتے ہیں کہ وہ بنی فاطمہ سے ہے اور بعض اس کو بنی حسین سے سمجھتے ہیں ۔ اور بعض صرف آل رسول خیا ل کرتے ہیں اور بعض اس کو امت میں سے ایک انسان قرار دیتے ہیں
ولے قدر مشترک یعنی ظہور مسیح حَکم کہ مہدی نیز ہست از دلائل قطعیہ بپایۂ ثبوت رسیدہ و غیرآن سائر روایات بمثابۂ ضد یک دیگر افتادہ کہ محدثین از کشودن گرہ سر بستگی آنہادست و پا گم کردہ اند و ہیچ قولے را از عیب تناقض رستگار نہ نمودہ و ہیچ بیانے را مدلل ومنقح نہ فرمودہ اند۔ چنانچہ بعضے بر آنند کہ مہدی از بنی عباس باشد۔ و بعضے از بنی فاطمہ پندارند۔ وبعضے از ولد بنی حسن گویند و بعضے از آل رسول اعتقاد دارند وبعضے او را فردے از افراد امت قرار دہند۔و بعضے را عقیدہ آنست کہ