وحقّروا شأنہا بل کانوا بہا یستہزؤن، وقالوا فلیأت بآیۃ کما أرسل الأولون۔ مع أنہم رأوا آیات، وشاہدوا تأییدات، فمن الواجب علی الأبرار أن یجتنبوا طرق ہذہ الکفار، ویستقروا سبل المؤمنین، وإن أعرضتم فلن تضرّوا اللّٰہ شیئا واللّٰہ غنی عن العالمین.
خاتمۃ الکتاب
اعلموا أن الروایات فی المہدی والمسیح کثیرۃ، وجمیعہا متخالفۃ و متعارضۃ، وما اطّلعنا علی مسانید أکثر تلک الآثار، وما علمنا طرق توثیق کثیر من الأخبار، والقدر
با وجود اس کے کہ مخالفوں نے نشان اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں دیکھیں پھر بھی کہا کہ نشان دکھاؤ۔ پس نیکوں کو چاہیئے کہ ان کفّار کے طریقہ سے پرہیز کریں اور مومنوں کی چال چلیں اور اگر تم منہ پھیرو تو کچھ پرواہ نہیں ۔اللہ کا تم کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
خاتمہ
جاننا چاہیئے کہ مہدی اور مسیح میں بہت سی روایتیں ہیں اور وہ سب کی سب متخالف اور متناقض ہیں ۔ اور اکثر روایات کی اسناد پر ہمیں اطلاع نہیں ہوئی اور ان کے پختہ سمجھنے کا ہمیں علم حاصل نہیں ہوا۔ اور قدر مشترک یعنی ظاہر ہونا
کہ تکذیب اونشدہ۔و باایں ہمہ کہ مکذبان نشانہائے آسمانی و تائیدات ربّانی می بینند باز از استہزاء طلب نشانہامی کنند۔ لہذا ابرار را باید کہ از طریقہ کفار اجتناب و رزند و راہِ مومنان بپویند۔و اگر رو بگردانید از جلال خدا چہ کاہد چراکہ او محتاج شمانیست۔
خاتمہء کتاب
پوشیدہ نخواہد بود کہ دربارہ مہدی و مسیح روایات مختلفہ آمدہ و ہمہ اش داغ تخالف و تناقض بر ناصیۂ حال داشتہ است۔