فہل من رشید ینتفع بہذا المسموع؟ وما ہذا إلَّا إعجاز خاتم الأنبیاء ، وشہادۃ طریّۃ علٰی صدق نبوّتہ من حضرۃ الکبریاء ، فتدبّروہا یا معشر السعداء ، رحمکم اللّٰہ فی ہذہ وفی یوم الجزاء۔ ولی آیات أخریٰ قد ترکتہا اجتنابا من التطویل، وکفاک ہذہ إن کنت خائفا من الرب الجلیل۔ واعلم أن الأصول المحکم فی معرفۃ صدق المأمورین أن تنظر إلی طرق تثبت بہا نبوّۃ النبیین۔ وما کان نبی إلَّا مکر فی أمرہ المکّارون، وسخر من آیہ المستنکرون پسؔ کیا کوئی رشید ہے جو ان باتوں سے نفع حاصل کرے اور یہ نشان در حقیقت ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور آپ کے صدق نبوت پر ایک تازہ گواہی ہے ۔ پس اس میں غور کرو خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نشان ہیں جن کو میں نے بخوف طوالت بیان نہیں کیا اور اگر تجھے کچھ خدا کا خوف ہو تو تیرے لئے یہی بہت ہے اور مامورین کے پہچاننے کا یہ اصول ہے کہ ان کو اس طریق سے پہچانا جائے جس طریق سے انبیا ء کی نبوت پہچانی جا تی ہے۔ اس لئے میری تکذیب کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا اور استہزا کیا گیا اور آیا ؔ رشیدے ہست کہ از ایں پند ہا نفعے بردارد۔ بحقیقت ایں معجزۂ نبی کریم ماست (صلی اللہ علیہ وسلم ) و برصدق نبوت وے گواہی تازہ مے باشد۔ نیک اندیشہ بفرمائید تا رحم خدا دست شما را بگیرد۔ علاوہ ازیں خیلے نشانہائے دیگر ہم دارم کہ اینجا بنو شتن نیا وردم چرا کہ برائے ترسندہ از خدا ہمیں بسیار است۔ و اصل شناختن مامورین ہمان است کہ با آں نبوت انبیاء علیہم السلام شناختہ می شود۔و تکذیب من چیزے شگرف نہ۔ چہ کہ احدے از انبیاء نیامدہ