لم تضطرم نیرانہم، ولم تنصرہم أوثانہم، استطلعوا أکابرہم ما عندہم من الآراء ، وشاوروہم فی أمر الصلح والمراء۔ فقالوا لم تبق قوۃ وما یترقب من جہۃ نصرۃ، وقال اخیارہم إلی متٰی ہذہ التنازعات وقد اختلّ المعاملات۔ ومع ذالک خوّفہم ہول الطاعون وفجأۃ المنون، فاختاروا السلم فی ہذہ الأیام۔ فالحاصل أن ہذہ الآیۃ آیۃ عظیمۃ من اللّٰہ العلَّام، ہو اللّٰہ الذی یجیب المضطر إذا دعاہ، ولا یُخیّب من رجاہ، ولا یُضیع من استرعاہ، لہ الحمدؔ والجلال والعظمۃ۔ ولقد ملکتنا فی آیہ الحیرۃ واغرورقت العین بالدموع
پھر جبکہ ان کی آ گ بھڑک نہ سکی اور ان کے بتوں نے ان کی مدد نہ کی تو پھر وہ لوگ مسلمانوں کے سا تھ صلح کرنے کے لئے باہم مشورے کرنے لگے اور ان میں سے اچھے آدمیوں نے کہا کہ اب صلح بہتر ہے کیونکہ معاملات میں ابتری واقع ہو گئی ۔ اور علاوہ اس کے طاعون نے بھی ان کو ڈرایا ۔ سو ان دنوں میں انہوں نے صلح کر لی اور یہ ایک خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان ہے ۔ وہ وہی قادر خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے اور کبھی امید واروں کو نومید نہیں کرتا ۔ اور جو شخص اس کی پناہ چاہتا ہے اس کو ضائع نہیں کرتا اسی کو حمد اور جلال اور عظمت ہے اور اس کے نشانوں پر نظر ڈال کر حیرت دا من گیر ہوتی ہے اور آنکھیں چشم پُرآب ہو جاتی ہیں
خلاصہ چوں ایشا نرامیسر نیامد کہ آتش ایشان تواند زبانہ بالاکشد و بتہائے اوشاں از دستگیری فرو ماندند درمیانہ ئخود ہا مشورہ کردند کہ بامسلماناں از در آشتی در آیند چہ کلانان انہا دید ند کہ خللے ۔۔۔ درمعاملات رو دادہ و علاوہ ازاں طاعون ہم تہدیدو ترس افزود۔ آخر مصالحت درمیان دو قوم واقع شد۔ الغرض ایں نشانے بزرگ ست کہ خدا تعالیٰ بتائید بندہ خود بخود آں قادر خدائے کہ دُعائے مضطران رامی شنود و امیدواران را دست رو بر سینہ نمی زند وپناہ جو یندہ را ہلاک و تلف نمی سازد۔ حمد و جلال و عظمت مراد را سزا واراست۔ چوں بریں نشانہایش نظر کنیم حیرت و شگفت می آید و دیدہ پُر آب میگردد۔