ثأرہم ویشفوا صدورہم بالانتقام۔ فأمّن اللّٰہ المسلمین ممّا کانوا یُحَذّرون، وألقٰی علیہم الرعب فکفّوا الألسن وہُم یخافون، وجعل قلوبہم شتّی فطفقوا یتخاصمون، واللّٰہ غالب علی أمرہ ولو کانوا لا یعلمون۔ ولم تستقم لہم ما سوّلوا من المکائد، ثم استأنفوا مکیدۃ أخریٰ کالصائد، وأغروا الحکّام لیدخلوا داری مفتشین، ویطلبوا أثرًا من القاتلین، فخذّل اللّٰہ أولیاء الطاغوت، وردّ علیہم ما أحکموا من الکید المنحوت، فرجعوا خائبین کالمجنون المبہوت۔ ولمّا میں سے کسی کو ہم بھی قتل کریں گے تا لیکھرا م کا بدلہ لیں اور دل میں ٹھنڈ پڑے۔ پس خدانے ان کے شر سے مسلمانوں کو امن میں رکھا اور ان پر رعب ڈال دیا سو انہوں نے زبانیں بند کر لیں۔ اور خد انے ان میں آپس میں پھوٹ ڈال دی ۔ اور خد اجوچاہتا ہے کرتا ہے اور اپنے فریبوں میں انہیں کا میابی نہ ہوئی۔ پھر نئے سرے ایک اور مکر سوچا اور حکام کو میری خانہ تلاشی کے لئے ترغیب دی مگر خدانے اس میں بھی انہیں نامراد رکھا اور ان ہی کو انجام کار شرمندگی اٹھانا پڑی ۔ خون لیکھرام خنک بسازند۔ ولے خدا مسلمانان را از شر شاں مصوں بداشت و شکوہ و رعب بر ایشاں مستولی شد۔ تا زبان ہا در کام در کشیدند۔ و خدا ایشان را در بلائے تشتیت کلمہ مبتلا گر دانید و در مکائد و فر یبہا چیزے از پیش نبردند۔ آخر مکیدۂ سگالیدند بایں معنی کہ حکام را بر تلاش خانۂ من آورد ند۔ ولے از ایں باب ہم زیان و نو میدی بہرۂ آناں شد و غرق خجالت باز گشتند۔