واستری الموت سریّہم، وکانوا یتیہون فی الأرض مقترین مستقرین، لعلہم یجدوا أثرا من قاتل أو یلاقوا بعض المخبرین۔ولمّا استیأسوا فقال بعضہم إن ہذا إلَّا سرّ ربّ العالمین، و لم یزل أسفہم یتزاید والأمر علیہم یتکائد وصاروا کالمجانین وکانوا لا یُفرّقون بین الدّجیٰ والضّحیٰ، وزال تدلّلہم من الشجیٰ بما تمت الحجۃ علیہم وفدحہم دیون المسلمین۔ وحسبوا موتہ نکبۃ عظیمۃ، ونائیۃ عمیمۃ، وأُرجف المسلمون وقیل إن الآریۃ سیقتلون أحدًا من سراۃ الإسلام لیأخذوا
اور وہ تلاش میں دِہ بدِہ اور شہر بشہر پھرنے لگے تاکہ قاتل کا ان کو سراغ ملے یا کسی مخبر کی ملاقات ہو ۔ اور جب نو مید ہو گئے تو بعض نے کہا کہ یہ تو خاص خد ا کا بھید ہے اور اُن کا غم بڑھتا گیا اور کام میں مشکلات بڑھتی گئیں۔ اور دیوانوں کی طرح ہو گئے اور مارے غم کے تاریکی اور روشنی میں فرق نہیں کر سکتے تھے اور اُن کا تمام نا ز غم سے جاتا رہا ۔ کیونکہ اُن پر حجت پوری ہو گئی اور وہ مسلمانوں کے قرض کے زیر بار ہو گئے اور اس کی موت کو انہوں نے بڑی مصیبت سمجھا اور ایک عام حادثہ خیال کیا ۔ اور لوگوں نے یہ خبریں بھی اڑائیں کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے معززین
زیرا کہ مرگ برگزیدہ ایشاں را ا ز میانۂ ایشاں درربود و در طلب قاتل دِہ بدِہ و قریہ بقریہ گردیدند۔ چوں یاس بر ایشاں چیرہ شد بعضے گمان کردند کہ ایں کارِ خداست۔ خلاصہ کوہ اندوہ بر سر شاں فرود آمد و دشواریہا وپیچیدگیہارو نمود وچوں دیوانگان گردیدند۔ حتی کہ از شدۃ غم و الم روز را از شب باز نہ می شناختند و ہمہ راحت و ناز شاں بسوز و گداز مبدّل شد زیرا کہ حجۃ اللہ بر ایشان تمام شد و دوش ایشاں از دام اہالئے اسلام گراں بار گردید۔ مرگ لیکھرام را داہیہ عظمیٰ پند اشتند وکودک وبر نادر سوگواری اش نشستند ہم درآں زماں در افواہ افتاد کہ ہنود می گویند کہ یکے را از اعزّہ اسلام خواہند کشت تا دیدہ را از گرفتن