غاب الأطباء من شقوتی۔ ثم جاء ہ الطبیب بعد تمادی الأوقات۔ وما بقی فیہ إلَّا رمق الحیاۃ۔ فعمل أعمالًا وما زاد إلَّا نکالًا، وقال الموت شمیر والبرء عسیر، وانقطع الرجاء وزاد البرحاء۔ حتی إذا جثم لیلۃ ہذہ الواقعۃ، فجعل الحلیلۃ ثیّبا، وشرب کأس المنیّۃ، ووقع فی أحواض غُثَیم، ورأی جزاء ظلم وضیم، وکذالک یجزی اللّٰہ الظالمین۔ فارتفعت الأصوات من البکاء ، وبلغ الصراخ إلی السماء ،وسمعتُ أن عیناہ استعبرت فی آخر حینہ بما رأی آیۃ الحق بعین یقینہ۔ وأصبح قومہ قد طارت حواسہم، وضلّ قیاسہم، بما أباد اللّٰہ نجیّہم،
بھی حاضر نہیں ۔ پھر ایک مدت کے بعد ڈاکٹر آیااور اپنا عمل کیا مگر بے سود تھا اور ڈاکٹر نے اشارہ کر دیا کہ جانبری مشکل ہے۔ پھر جب آدھی رات گز رگئی تو لیکھرام نے موت کا پیالہ پی لیا ۔
اور میں نے سنا ہے کہ مرتے وقت اس کی آنکھیں پُر آب تھیں کیونکہ خدا کی پیشگوئی کا پورا ہو نا اس کو یاد آیا ۔ اور اس کی موت کے بعد اس کی قوم کے حواس اڑ گئے کیونکہ موت نے ان کے ایک منتخب آدمی کو لے لیا۔
موجود نہ مے باشد۔ بعد از زمانے دراز ڈاکٹر آمد و ہرچہ توانست چارۂ کار نمود۔ ولے چوں نیمۂ از شب سپری شد لیکھرام جام تلخ مرگ بنو شید۔ شنیدہ ام کہ وقت مرگ سراشک از دیدہ اش رواں شد۔ چہ صدق وقوع خبر غیب بخاطر وے خطور کرد۔ قوم بر مرگ وے از بس سرا سیمہ و آشفتہ شد ند