أشرعہ إلی الأمعاء ، حتی قطعہا وترکہا فیؔ سیل الدم کالغثاء۔ وکان ہذا یومٌ بعد یوم العید* کما قُرّر من اللّٰہ فی المواعید۔ وإذا ظن القاتل أنہ أخرج نفسہ الخسیسۃ، فہرب وترک دارہ الخبیثۃ، ثم غاب عن أعین الناس کالملا!ئکۃ۔ وما رآہ أحد إلی ہذہ المدّۃ، فما أعلم أصعد إلی السماء أو سترہ اللّٰہ بالرّداء۔ وأمّا المقتول فدُقَّ بجروح، ولکن کانت فیہ بقیۃ روح، وقال احملونی إلی دار الشفاء ، فحملوہ وما وجدوا فیہ أحدًا من الأطباء ، فقال یا أسفٰی علٰی قسمتی، قد کےؔ ساتھ اس کی پسلی توڑ کر اس کا رد کو انتڑیوں تک پہنچا دیا اور پھر انتڑیوں کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کیا کہ وہ خون کے اوپر ایسا تیرتی تھیں جیسے کہ سیلاب کے اوپر خس و خا شاک تیرتا ہے اور یہ دن عید کے دن سے دو سرا دن تھا جیسا کہ خدا تعالیٰ کے وعدہ میں مقرر تھا اور جب قاتل نے دیکھا کہ اس نے اس کا کام تمام کر دیا ۔ سو وہ اس کے گھر کو چھوڑ کر بھا گا پھر فرشتوں کی طرح آنکھوں سے غائب ہو گیا اور اس وقت تک کسی کو اس کا نشان نہ ملا ۔ نہ معلوم کہ وہ آسمان پر چلا گیا یا خدا نے اس کو اپنی چادر کے نیچے ڈھانک لیا اور مقتول زخموں سے کوفتہ کیا گیا مگر ابھی اس میں جان باقی تھی ۔ تب اس نے کہا کہ مجھے ہسپتال میں لے چلو ۔ سو اس کو لے گئے اور وہاں ڈاکٹر کو نہ پایا ۔ تب مقتول نے کہا وائے میری قسمت میری بد بختی سے ڈاکٹر چاک زد بمثابۂ کہ رودہ ہارا از ہم بُرید وآنؔ روز روز دوم از عید اضحی ۱؂بود بر حسب آنچہ در موا عید الٰہیہ قرار یافتہ بود۔ وقاتل چون از کارش بپر داخت آن خانہ را بگذاشت و چون فرشتہ از دیدۂ مردم پنہاں شد و تا کنوں از وے اثر ے و خبرے دردست نیست۔ خدا داند بہ آسمان بالا شد یا خدایش در زیر چادر خود بپوشید۔ خلاصہ مقتول اگرچہ از ریش و آسیب از بس کوفتہ و خستہ گردید ولے ہنوز روان در تنش ماندہ بود عزیزاں درر سیدند و در دارلشفاء بُردند۔ ڈاکٹر یعنی طبیب آں زمان در اینجا نبود۔ مقتول زار نالید و گفت آہ نگوں بختی من ڈاکٹر ہم این جا قتل لیکھرام فی الیوم الثانی من عید الفطر۔ وکان یوم السبت۶مارچ ۱۸۹۷ء ، ۲ شوال ۱۳۱۴من الہجرۃ المقدسۃ۔ منہ