ثم جعل یُخبر قومہ کالفر!حین المبشرین، وینادی أنہ ارتدّ من دین المسلمین۔ وأکل معہ وتغدّی، وما دری أنہ سیتردّی، وکان ہو یُخفی مولدہ ومنبعہ، لکی یُجہل مربعہ۔ وکان یسیر فی المصر مواریًا عن الخلق عیانہ، ومخفیا مقرہ ومکانہ۔ حتی انتہی الأمر إلی یوم موعود، فدخل علیہ علی غرارتہ کمحب و ودود۔ وأمہلہ ریثما یصفوا الوقت من الحضار، ویذہب من جاء من الزُوّار۔ ثم سطا علیہ کرجل
فاتک کمیش الہیجاء ، وجنّبہ بسکین بلغ إلی الأحشاء ، و
پھر اپنی قوم کو خوش خوش خبر دیتا پھرا اور بتلا تا پھرا کہ یہ شخص مسلمان ہو گیا تھا پھر ہندودین قبول کرنے کے لئے آیا ہے ۔اور وہ شخص اس سے اپنا مولد چھپاتا رہا تا اس کے گھر کی اطلاع نہ ہو اور وہ شہر میں چھپا چھپا پھرتا تھا اور اس کا قرار گاہ کسی کو معلوم نہ تھا یہاں تک کہ لیکھرام کے اجل مقدر کا دن پہنچ گیا۔ اور یہ شخص اُس دن اُس کی عین غفلت کے وقت دوستوں کی طرح اُس کے پاس گیا اور اس کو اس قدر مہلت دی کہ جس میں حاضر باشوں سے فراغت ہو جائے اور جو ملنے کے لئے آئے ہیں وہ چلے جائیں ۔ جب اس
کے لئے فرصت کا وقت نکل آیا اور لیکھرام کو اس نے غفلت میں پایا تب یکدفعہ اُس پر ایک چابک دست انسان کی طرح حملہ کیا اور کارد
او مژدہ ہا بداد کہ ایں دین اسلام پذیر فتہ بود۔ حالیا آمدہ است کہ دیگر کیش ہنود را قبول نماید۔ و آں کس مولد خود را بروے پوشیدہ داشت و در شہر نہان و پوشیدہ میز یست۔ حتی احدے آگاہ از قرار گاہش نبود۔ تا ایں کہ لیکھرام را اجل مقدر فرارسید۔آں کس در زِ یّ دوستاں او روزے علی الغفلہ در پیش وے برفت و در انتظار آں نشست کہ مجلس از حاضراں بپردازد و عسل از غوغائے مگس مامون گردد۔ چوں وقت فرصت بدست آمد و لیکھرام را غافل یافت بیک ناگہ چوں شیر گرسنہ بروے بر جست و باکارد تیز شکمش را