من الإرادۃ، ووصلت حضرتک للاستفادۃ، بید أنی اسیر فی بعض الشبہات، وأرجو أن تقیل لی عثاری وتکشف عقد المعضلات، ثم أدخل فی دین آبائی وأترک الإسلام، فہذا ہو الغرض وما أطول الکلام.فأمعن لیکرام نظرہ فی توسمہ و سرّح الطرف فی میسمہ، فلبس علیہ أمرہ قدرُ الرحمٰن، وظن أنہ من الصادقین ومن الإخوان۔ فتلقّاہ مُرحّبًا وقال رجعت إلی دار الفلاح، وامتزج بہ کالماء والراح، وأنزلہ فی کنف الاہتمام، و تصدّی لہ بالاعزاز والإکرام۔ سستی نہیں کی ۔ مگر یہ بات ہے کہ چند شبہے میرے دل میں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ تو میری لغزش کو معاف کرے اور میرے یہ عقدے حل کر دے ۔ پھر میں اسلام کو چھوڑ کر اپنے باپ دادے کے دین میں داخل ہو جاؤں گا ۔ تب لیکھرام نے اس کو خوب غور سے دیکھا اور خدا تعا لیٰ نے اس مسافر کا دلی ارادہ اُس پر پوشیدہ کر دیا اور اس نے سمجھا کہ یہ سچا اور ہمارے بھائیوں میں سے ہے ۔ سو اس نے مرحبا کہہ کر اس کو قبول کر لیا اور اس کے ساتھ یوں ملا جیسا کہ پانی اور شراب ملتے ہیں اور اپنی غمخواری کی پناہ میں اُس کو لے لیا اور اعزاز اور اکرام کے ساتھ پیش آیا ۔ پیش تو آمدہ ام۔ ہر چند مردم بمنع مرا پیش آمدند۔ بازنیا مدم و آہنگ چست خود راست نہ نمودم۔ بلے شکوکے چند در دلم خلجانے دارد۔ امید دارم کہ از خطاء و زلت من در گذری وگرہ مرا بکشائی باز اسلام را ترک گفتہ کیش پدران را خواہم گزید۔ لیکھرام چوں ایں قصہ از وے بشنید سراپائے ویرا نیکو بدید۔ و خدا نیت آں غریب را بر وے مستور کرد و او را صادق گماں نمود۔ خلاصہ مسئلت ویرا پذیرفت و باوے چوں شکر با شیر بیامیخت و قوم خود را دربارۂ