واتت علیہ السنۃ الخامسۃ من أیّامہ، وکان یضحک ویقیس إلہامی علی زور کلامہ۔ اتفق أنّہ دخل علیہ رجل من المسافرین، وأظہر أنہ کان من قومہ الآریین، ثم أدخلہ فی الإسلام بعض الخادعین، والآن جاء متندّما کالطالبین الخائفین، ویرید أن یرجع إلی دین آباۂ ویترک المسلمین۔ ومدحہ وقال أنت کذا وکذا وللقوم کالرأس، وأیقظت کثیرا من النعاس، وقد انتشر ذکرک وسمع کمالک فی الردّ علی الإسلام، فجئتک من أقصی البلاد لأستفیض من فیضک التام۔ والناس منعونی فما استقلت اور پانچواں برس اس پیشگوئی کا گذرنے لگا تو یہ اتفاق پیش آیا کہ ایک مسافر اس کے ملنے کے لئے آیا اور ظاہر کیا کہ وہ ہندو اس کی قوم میں سے ہے اور کسی نے دھوکا دے کر اس کو مسلمان کر دیا تھا اور اب اُس کو اس حرکت سے ندامت پیدا ہوئی ہے اور اس لئے آیا ہے کہ تا پھر اپنے باپ دادا کے دین میں داخل ہو اور اسلام کو چھوڑ دے اور یہ کہہ کر پھر اس کی تعریف شروع کی کہ تو ایسا اور ایسا ہے اور بہتوں کو تُو نے خواب غفلت سے جگایا ہے اور تیرے نام کی بہت شہرت ہو ئی ہے اور معلوم ہواکہ اسلام کا ردّ لکھنے میں تجھے کمال ہے اس لئے میں دور سے تجھ سے فیض پانے کے لئے آیا ہوں ۔ اور لوگوں نے منع کیا مگر میں نے اپنے ارادے میں وسال پنجم بر خبر غیب سپری شد۔ چناں اتفاق افتاد کہ غریبے برائے دیدنش رفت و و انمود کہ او ہندو نزاد و از اہل ملت وے می باشد۔ سالے چند است باغوائے بعضے نا کساں مسلمان شدد بود حالا بر فعل خود پیشمان و ازاں حرکت دست تاسف گزآن بخدمت والا حاضر آمدہ کہ بر دست میمون توبہ کند و دیگر مذہب آباء را بگزیند و پشت پا بر اسلام بزند۔ ایں بگفت و در مدح و تمجیدش ترانہ سنجیدن گرفت کہ توچنانی و چنیں کہ بسیارے را از خواب غفلت بیدار کردی و نام نامی تو شہرتے عجیب یافتہ۔ ترا در رد اسلام ید طولیٰ است۔ ازین جاست کہ جہت استفاضہ از راہ دُور