وطبع ہذا النبأ وشہّرہ وأشاعہ فی أقوام مختلفۃ۔ وأرسل إلیَّ أوراقہ التی کانت کأضحو!کۃ، وکتبہ فی بعض کُتُبہ وذکرہ فی محافل غیر مرّۃ۔ فکتبت إلیہ أن الأمر فی أیدی الرحمٰن، فإن کنتَ صادقا فیَرَی صدقَک أہلُ الزمان۔ وإن کان الصدق فی قولی فسیظہرہ بالفضل والإحسان، إنہ مع الذین اتقوا والذین صدقوا فی القول والبیان، إنہ لا ینصر الکاذبین.فمضی زمان علی نبأہ الکاذب بخیر وعافیۃ، وما تغیر منّا جزء من شعرۃ واحدۃ۔ ولمّا قرُب میقات ربّی فی أمر حمامہ، اور اس خبر کو اُ س نے لوگوں میں مشہور کر دیا اور مجھے اس پیشگوئی کے اشتہار بھیجے اور کئی مجلسوں میں اس کا ذکر کیا ۔ تب میں نے اس کی طرف لکھا کہ تمام بات خدا تعا لیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ سو اگر تو اپنی پیشگوئی میں سچا ہے تو تیری سچائی خدا تعالیٰ ظاہر کر دے گا۔ اور اگر میری بات سچ ہے تو اس کو اپنے فضل اور احسان سے ظاہر فرمائے گاکیونکہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور سچ بولتے ہیں اور جھوٹوں کی وہ مدد نہیں کرتا ۔ سو اس کی جھوٹی پیشگوئی کا زمانہ بخیروعافیت گذرگیا اور ایک بال بھی ہمارا بیکا نہ ہوا۔ اور جب اس کی موت کے بارے میں میرے ربّ کا وعدہ نزدیک آیا و ایں خبر را در اقوام مختلفہ اشاعت کرد و اشتہار مشتمل بر آں خبر غیب مرا فرستاد۔ او را نوشتم کہ سر رشتہ امور دردست رحمن است۔ اگر راستی بجانب تست قریب است کہ راستئ تو آشکار شود۔ و اگر من صادقم پس انشاء اللہ فضل و نصر ت او دست مرا خواہد گرفت زیرا کہ خدا باآں مردم مے باشد کہ از و بتر سند وراست بگویند واو گاہے حمایت کا ذبان نکردہ و نکند۔ آخر خبر دورغ وے چون گوز شتر برباد رفت و در مدت مقرر کردہ او وقت ما بسلامت گذشت و یک موز یانے نشد۔ اما چوں دربارۂ مرگ وے میعاد پرور دگار من فراز آمد۔