أنہ لما فصل من ہذہ البقعۃ،ؔ جعل یصرّ علی تطلّب آی الرحمن، مع السبّ والشتم وکثیر من الہذیان۔ فخررت أمام الحضرۃ، وتبصبصت للّٰہ ذی العزّۃ، ودعوت اللّٰہ فی آناء اللیل بالتضرّع والابتہال، وأقبلت علی ربّی بذوبان المہجۃ وتکسر البال۔ فألہمنی ربّی أنہ سیُقتل بعذاب شدید، بحربۃ فی ست سنۃ فی یوم قرب یوم العید بإذن اللّٰہ الوحید۔ فأخبرتہ عن ہذا الإلہام،
فما خاف بل زاد فی السبّ وتوہین الإسلام، وکتب إلیَّ أنی أُلہمت
أ نّک تموت بالہیضۃ إلی ثلٰث سنۃٍ۔
جب وہؔ اس جگہ سے چلا گیا تو اُس نے نشانوں کو طلب کرنا شروع کیا اور نیز گالیاں دیتا اور بد گوئی کرتا تھا ۔ تب میں حضرت عزّت میں گرا اور قہری نشان کے لئے تضرع کیا ۔ سو خدا نے مجھے خبر دی کہ وہ
ایک عذاب شدید کے ساتھ چھ برس کے اندر قتل کیا جائے گا ۔اور اس کے قتل کا دن عید کے دن سے قریب ہو گا ۔ سواس الہام سے میں نے اُس کو خبر دے دی ۔ سو وہ اس الہام کو سن کر اور بھی بد گوئی میں بڑھا اور میری طرف لکھا کہ مجھے بھی الہام ہو اہے کہ تو تین برس تک ہیضہ سے مر جا ئے گا ۔
رفت و طلب نشان و آغاز دشنام کرد بر آستانہ حضرت عزت برو افتادم و برائے نشان قہری زبان ضراعت و ابتہال کشودم ۔
بنا براں خدا مرا خبر بداد کہ او در مدت شش سال باعذاب الیم کشتہ شود و یوم قتلش قریب از روزعید باشد۔ ازین الہام اعلامش کردم ولے بعد از شنیدن دربد گوئی بیفزود و پیش من خط فرستاد کہ مرا نیز خبردادہ اند کہ تو در مدت سہ سال از ہیضہ خواہی مُرد۔