نفسہ من عجائب ربّ السماوات، وأصرّ علی الطلب لیکون لہ وقعٌ فی أعین المشرکین والمشرکات۔ ولما قصد الرحیل وختم القال والقیل۔ رأیت أنّی مقیم فی صحن مکان کالشجعان، وفی یدی رمح ذابل حدید السنان، کثیر البریق واللمعان، وأراہ أمام عینی میّتًا علی التراب، وأطعن رأسہ بنیّۃ الإنصاب، ویتلألأ سنانی عند کل طعنی ویبرق کالشہاب، ثم قال قائل ذہب وما یرجع قطّ إلی ہذہ الحداب۔ فواللّٰہ ما رجع حتی نعاہ إلینا بعض الأصحاب۔ وتفصیل ہذہ القصۃ
تھا ۔ اور مجھ سے اس لئے نشان طلب کرتا تھا کہ تا ہندوؤں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا ہو ۔ اور جب وہ قادیان سے چلا گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک میدان میں مَیں کھڑا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک باریک نیزہ ہے جو بہت چمک رہا ہے اور میں نے اس کو ایک مُردہ پایا جو میرے آگے پڑا ہے اور میں اس نیزہ سے اس کے سر کو اِدھر اُدھر کرتا ہوں ۔ تب ایک بولنے
والے نے آواز دی کہ یہ چلا گیا اور پھر قادیان میں کبھی نہیں آئے گا ۔ سو در حقیقت وہ پھر واپس نہ آیا یہاں تک کہ ہم نے اُس کے مرنے کی خبر سنی اور اس قصہ کی تفصیل یوں ہے کہ
انکار تمام داشت واز من جہت آں طلب میکرد کہ وقعے دردل ہنود پیدا بکند۔ و چوں از قادیاں برفت در خواب می بینم در میدانے ایستادہ ام و نیزہ تیز درخشاں در دست من است ومے بینم لیکھرام را مردہ وارے در پیش من افتادہ است بانوک نیزہ سرش را تقلیب مے کنم۔ نا گہاں گویندۂ آواز بداد کہ ایں رفت است و دیگر بقادیاں باز نخواہد آمد۔ و بحقیقت ہم چنین پدیدار شد و ہر چہ بعد از رفتنش دیگر بقادیان آمد آن خبر ہلاکش بود۔ تفصیل ایں اجمال و کشف این مقال آنکہ چون ازیںؔ جا