صار أشد خصومۃ فی الدّین۔ وکان فی أول أمرہ مال إلی صحبتی، لعلہ یری أمارات حقیّتی، فبطّأ بہ ہؤلاء خوفًا من أثر الصحبۃ، وقالوا ما تطلب منہ وإنا نحن من أہل التجربۃ۔ وہو تبوّء القادیان إلی شہر تام، وأخذ أنواع مفتریات من لئام، حتی أوقدوہ کنار الجحیم، وسوّدوا قلبہ ولا کسواد اللیل البہیم، ثم رحل بعد أخذ ہذہ التعالیم۔ وطفق یطالب منی آیۃ من الآیات، وقد اضطرمت فی قلبہ نار المعادات، وکان یُنکر فی اور سخت جھگڑ ا شروع کر دیا ۔ اور وہ ابتدا میں میری صحبت کی طرف مائل ہو گیا تھا اور امید رکھتا تھا کہ میں نشان دیکھوں۔ پس یہ لوگ اس کے مزاحم ہو ئے اور اس ارادہ سے اُس کوہٹا دیا تا اثر صحبت سے متاثر نہ ہو جائے اور اس کو کہا کہ تو اِن کی صحبت میں رہ کر کیا کرے گا اور ہم تو اس کی نسبت اہل تجربہ ہیں ۔ اور وہ قادیان میں قریباً ایک مہینہ تک ٹھہرا اور بہت سے افترا اُس نے اپنے دل میں بٹھائے اور جہنم کی آگ کی طرح ان لوگوں نے اس کو افرو ختہ کیا اور اس کے دل کو رات کی طرح سیاہ کر دیا ۔ اور پھر وہ ان تعلیموں کو پا کر چلا گیا اور مجھ سے نشانوں کا طلب کرنا شروع کیا اور اس کے دل میں دشمنی کی آگ بھڑک اٹھی ۔ اور وہ خدا تعا لیٰ کے نشانوں سے اپنے دل میں انکاری از کثرت گفت و شنید سخت شدو ہمہ دروغ زینہا و ہرزہ کا ریہائے آنان را راست دا نست وپیکار درشتی پیش گرفت۔ اماّاولاً رومائل بصحبت من بودہ متوقع آں بو دکہ نشانے از من بہ بیند۔ ولے ایں مردم مانع آمدہ ازاں ارادہ اش باز دا شتند کہ نباید از رفتار و گفتار من متاثر بشود و گفتند نشستنت پیش ایں کس چہ حاصل کہ ما ساکنان ایں دِہ و ہمسایگان و نسبت بایں کس صاحب تجربت و خبرت می باشیم۔ او یک ماہ در قادیان مکث نمود و انبار افترا ہا در نزد خود فراہم آورد۔ و اہالئے ایں دِہ چوں دوزخش بیفرو ختند و دل وے را چوں شب تار سیاہ گرد انیدند۔ آخر او ایں ہمہ آموختہ ازیں جا برفت و نشان از من طلب می کرد۔ و آتش عداوت سر اپائے وے را بگرفت۔ واو بر نشانہائے خدا