کما ہی عادۃ السفہاء، وأخذنی بالعنف کالغرماء، وجرّأہ مشر!کو ہذہ القریۃ علی مطالبۃ الآیۃ، وکانوا یعللونہ بالقصص الباطلۃ لیزول منہ الرعب ویأخذہ نوم الغفلۃ۔ وکانوا ینفخون فی آذانہ أن ہذا الرجل کاذب مکّار، فلا یأخذک رعبہ ولا اسبطرار۔ فواللّٰہ ما أہراق دمہ إلا ہذہ الکذابون، فإنہم أغروہ علیَّ وکانوا یحلفون، وما أحسنوا إلیہ بزورہم بل کانوا یسیؤن۔ فقسٰی قلبہ بکلماتہم، وآمن بمفتریاتہم، وتلطّخ برجس الشیاطین، و جیسا کہ کمینوں کی عادت ہوتی ہے اپنی تحریرمیں بہت کچھ سختی کی اور مجھے اپنا مدیون قرار دے کر ملامت شروع کی اور اس گاؤں کے ہندوؤ ں نے اس کو نشانوں کے طلب کے لئے دلیر کیا اور باطل کہانیاں پیش کر کے اس کا ڈھارس باندھا تاکہ اس رعب کو دور کریں جو اس پر پڑا ہوا تھا اور یہ قادیان کے لوگ اس کے کانوں میں پھونکتے رہے کہ یہ شخص تو جھوٹا اور مکّار ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تو اس کے رعب کے نیچے آ جائے۔ اور مجھے خدا کی قسم ہے کہ اُس کے قتل کرنے والے یہی قادیان کے لوگ ہیں کیونکہ ان لوگوں نے ہی میری دشمنی اور مقابلہ کے لئے اس کو دلیر کیا اور قسمیں کھا کھا کر اس کو تسلی دی ۔ مگر ان لوگوں نے ان باتوں کے ساتھ اُس سے نیکی نہیں کی بلکہ بدی کی ۔آخر نتیجہ یہ ہو اکہ ان لوگوں کی بہت سی باتیں سننے سے اس کا دل سخت ہو گیا اور وہ ان کے افتراؤں کو مان گیا اور ان کی پلیدی سے آلودہ ہو گیا استہزا کہ نشانہائے شما چہ شدو آیا ہنوز پردہ از روئے دروغ و زور شما بر نخاستہ۔ و چوں پست نثراداں دراں نامہ دقیقہ ء از سفاہت و یا وہ گوئی فرو نگذاشت۔ و مرا مد یون خود قرار دادہ از ہیچ گونہ زجر و تو بیخ دریغ نفرمود۔ ہندو زادہ ہائے ایں دِہ برائے طلب نشان دلیرش ساختند و افسانہائے ہرزہ در گوشش انداختہ پشت وے را توانا کردند و بکو شید ند کہ آں بیم و ہراس کہ بروے دست یافتہ بود از درونش بدر رود ودر گوشش میدمیدند کہ ایں کس کاذب محض است زنہار از وے خوفے در دلت راہ مبادا۔ وبخدا قا تلانش اہالئے ایں دِہ بودہ اند۔ زیرا کہ ایں مردم اورا بر مقاومت من بد اشتند و سو گندہا یاد کردہ تقویت وے نمودند۔ اے دریغ ایں مردم در جائے خیر شر ے و ضررے باور سانیدند۔ آخر دلش