نکال الآخرۃ والأولی۔ وہاجتہ الحمیۃ والنفس الأبیّۃ علی قذف رسولنا خیر الوریٰ، فکان لا یخلو وقتہ من سبّ سیدنا المجتبٰی، وکان فی الشتم کسیل ہامر وماء غامر أو أشد فی الطغویٰ۔ وکانت ہذہ العذرۃ کل حین فی شفتیہ، وجنون الغیظ فی عینیہ، وما خاف وما انتہیٰ۔ فالحاصل أنہ کان یرید أن یُحقّر الإسلام فی أعین الناس وعامۃ الوریٰ، ویشیع بینہم تعلیم الخناس ویصرف عن الہدیٰ۔ وکان اللّٰہ یرید أن یجفأ قدرہ ویُری الناس قذرہ، ویُری الرّائین
آیتہ الکبریٰ۔ فلما تجلّی ربنا للمیقات، وجاء وقت الآیات، کتب إلیَّ علی عزم السخریۃ والاستہزاء، وقال أین آیتک ووعدک۔ ألم تظہر حقیقۃ الافتراء؟ وغلّظ علیَّ
ہانڈی کو پھوڑے اور اس کی پلیدی لوگوں پر ظاہر کرے اور ایک بڑا نشان دکھاوے
پس جبکہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور نشان کا وقت قریب آیا تو اس شخص نے ٹھٹھے سے میری طرف ایک خط لکھا کہ تمہارے نشان کہاں گئے اور کیا اب تک تمہارا افترا ظاہر نہ ہوا اور
اما خدا خواست کہ طبلش ا ززیر گلیم برون آید و طشتش از بام بہ زیر افتد۔ و نجاستش را بر مردم اظہار دہد و نشانے وا نماید۔ چوں آں وقت وعدۂ خدا و نشان فراز آمد آں ہندو مرا خطے نوشت پُراز