الکلام۔ثم جعل یذکرنی فی محافل بتوہین وتحقیر، وأراد أن یجز أمری ویُریہ قومَہ کشیء حقیر ومتاع کقطمیر۔ فاستعمل الأکاذیب لتکمیل ہذہ الإرادۃ، واشتری الشقاوۃ وبعُد من السعادۃ۔ وکم من مفتریات افتری، وکم من بہتان أشاعہ
من حقد وہوی۔ وصار شغلہ
سبّ نبینا المصطفٰی، وتکذیب
کتابنا الذی ہو عین الہدیٰ۔
وکم من کُتُبٍ أطال المقول فیہا وہذیٰ، وطفق یہتک أعراض العلیّۃ وبدور العُلٰی، ونُخَب حضرۃ العزّۃ وأحبّۃ ربنا الأعلٰی، وما خشی
بعد اس کے کوئی کلام نہ کی ۔ پھر اس نے یہ کام شروع کیا کہ ہر ایک محفل میں مجھے تحقیر اور تو ہین سے یاد کرتا اور یہ دل میں ٹھانا کہ میرے کاروبار کو پراگندہ کرے اور قوم کی نظر میں مجھے ایک ذلیل انسان کی طرح دکھلاوے ۔سو اُس نے اِس ارادے کے پورا کرنے کے لئے جھوٹ اور افترا پر کمر باندھی اور بد بختی کو خریدا اور سعادت سے دور جا پڑا اور بہت سے افترا بنائے اور بہت سے بہتان گانٹھے اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیا اور قرآن شریف کی تکذیب کرنا اپنا پیشہ قرار دیا اور اپنی کتابوں میں
اس نے زبان درازی شروع کی اور بزرگوں اور آسمانی چاندوں کی ہتکِ عزّت اُس کا شیوہ ہو گئی اور خدا تعالیٰ کے پیاروں کو بُرا کہنا اس نے اپنا طریق بنا لیا ۔ مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی
گفتگوئے درمیان نیاورد۔ بعد چندے ایں و تیرہ پیش گرفت کہ ہر جامے رفت در تذلیل و تحقیر من میکو شیدو ببدی یاد میکرد و بر اں شد کہ کاروبار مرا برہم زند و در دیدۂ مردم مرا ہیچکار ہ وا نماید۔ و جہت حصول ایں کام کمر بر افترا ہا و دروغ با فیہا بر بست و نبئ کریم مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سقط گفتن و دشنام دادن و اہانت و تکذیب قرآن حکیم پیشہ گرفت۔ و بر گزیدگان خدا و نجوم سما را در کتب خود نا سزا می گفت۔ خلاصہ ایں گونہ ناہنجاریہا وبے اندامی ہا شعار خود کرد۔