فإنہ أمر ینزل من حضرۃ العزّۃ ویحتاج ظھورہ إلی تضرّعات العبودیۃ۔ فاحبس نفسک عندنا إلی حَوْل۔ وہذا خیر لک من سبّ وصَوْل۔ لعل اللّٰہ یُریک آیۃ ویہب یقیناًوسکینۃ و کذالک نرجو من اللّٰہ المنّان، فاصبر معنا إلی ہذا الآوان إن کنت من الطالبین۔فما نجعت نصیحتی فی جنانہ، وما انتہی من ہذرہ وہذیانہ فقلت أیہا الرجل إن کنتَ لا تصبر وتعزم علی الرحیل، ولا تختار ما أریناک من السبیل، فلک أن تذہب وتنتظر الإلہام، فذہب مغاضبًا وترک
نشان ایک ایسی چیز ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں اور ان کا ظاہر ہونا تضرعات عبودیت پر موقوف ہے ۔ پس ایک برس تک میرے پاس توقف کر اور یہ تیرے لئے بہتر ہے تاکہ خدا تعالیٰ تجھے نشان دکھائے اور یقین اور سکینت بخشے اور اسی طرح ہم خدا تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں۔ پس اگر تو طالب ہے تو اس وقت تک صبر کر ۔مگر میری نصیحت نے اس کے دل میں اثر نہ کیا اور بیہودہ گوئی سے باز نہ آیا ۔ تب میں نے کہا کہ اے شخص ! اگر تو صبر نہیں کر سکتا اور جانے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے اور ہماری تجویز کو پسند نہیں کرتا تو تیرا اختیار ہے کہؔ تو چلا جا اور ہمارے الہام کی انتظار کرتا رہ ۔ تب وہ غصہ کی حالت میں چلا گیا
ظہورآں موقوف بر تضرعاتِ عبودیت مے باشد۔ لہٰذا باید کہ یک سال تمام نزد من مکث بکنی کہ خدا ترا نشانے بنماید و سکینت و طمانیت بر تو فرود آید۔ہم چنین از خدا وند امید داریم کہ اگر طالب صادق استی تا آن زمان شکیبائی بگزیں مگر اندرزمن در وے نگرفت و ہر زہ گفتن آغاز کرد نا چار گفتم کہ اگر نمے توانی کہ بہ شکیبی و آمادہ بر رفتن استی و تجویز مرا قبول نکنی اختیار داری برو و الہام مرا منتظر باش و چشم در راہ بنشین۔ آخر او خشم آگین از پیش من برخاستؔ ۔ و ازاں بعد