ہذہ القریۃ إلَّا وتُرینی الآیۃ أو تقر بکذبک وبما اخترت الفریۃ۔ وساء الحضار ما اختار من غلظ وشدّۃ، فبرّدتہم بوصیۃ صبر وتؤدۃ، وکانوا من الذین أخذوا مربعی منتجعہم، وداری محضرہم، وحسبوا إلہامی مرتعہم ومخبرہم۔ ثم قلت لہ یا ہذا إن الآیۃ لیست کشیء ملقاۃ تحت الأقدام لألقطہ لک وأعطیک کالخادم بالإکرام، بل الآیات عند اللّٰہ یُری إذا ما شاء ، ولا ینفع الوثب کثور الوحش فإیاک والمراء ، والصبر حقیق لمن طلب آی اللّٰہ وجاء یستقری الضیاء سے دیکھا اور کہا کہ میں اس گاؤں سے کبھی نہیں جا ؤں گا جب تک کہ تم نشان نہ دکھلاؤ اور یا اپنے جھوٹ کا اقرار نہ کرو اور حاضرین کو اُس کی سخت زبانی بُری معلوم ہوئی ۔پس میں نے ان کو صبر کی وصیت کے ساتھ ٹھنڈا کیا ۔ پھر میں نے اس کو کہا کہ اے شخص! نشان ایسی چیزتو نہیں جو قدموں کے نیچے پڑی ہو اور فی ا لفور دکھلا دی جائے ۔ بلکہ نشان خدا کے پاس ہیں جب چاہتا ہے دکھاتا ہے ۔ اور گاؤد شتی کی طرح کودنا مناسب نہیں ۔ پس لڑائی سے پرہیز کر ۔ اور جو شخص نشانوں کو ڈھو نڈتا ہے اس کے لئے صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ نگر یست۔ و گفت ابداً ازین دہ نروم تا نشانے از شما نہ بینم یا شما سپر عجز بیفگنید۔ حاضران از گفتار تلخ و در شتش بر نجیدند۔ من از پند صبر آب بر آتش ایشان زدم و بآخر اورا گفتم اے فلان نشان چیزے نیست کہ پیش پا افتادہ باشد یا حقہ مشعبد نہ کہ دران اعجوبہ نمودہ شود بلکہ نشانہانزد خداست وقتے کہ می خواہد نشان مے دہد۔ و چوں گاؤ دشتی تپیدن روا نیست۔ از ستیز و آویز پرہیز کن۔ ہر کہ طالب نشان باشد او را صبر لازم است۔ چہ نشان از طرف خدا نازل مے گردد و