أو یأخذ منی إقرار العجز عند ھذہ السؤالات۔ وأصرّ علی أن یؤانس آی اللّٰہ أمام ارتحالہ، وکان جہولا غیر متأدّبٍ فی مقالہ۔ فطفق یبلطنی لرؤیۃ الآیۃ، ویخجأنی من العمایۃ، فإنہ کان جسدا لہ خوار، وما أعطی لہ روح فراسۃ ولا افتکار۔ وکان احتکاء فی جنانہ أن ہذا الرجل کاذب فی بیانہ، وکذالک انتقش فی قلبہ من خدع أعوانہ، وحمئت بہم بئر عرفانہ۔ ووافانی ذات المرار، فألحّ علیَّ وأبلط بکمال الإصرار، ونظر إلیَّ شزرًا بالاستکبار، وقال إنی لن أفارق
جب تک کہ بعض نشان نہ دیکھے اور یا جب تک کہ مجھ سے اقرار عجز نہ لے لیوے او راس نے اصرار کیا کہ اپنے جانے سے پہلے نشان دیکھے ۔ اور وہ ایک جاہل بے ادب تھا ۔ پس اس نے مجھے نشان کے لئے دِق کرنا شروع کیا اور نابینائی کی وجہ سے اصرار کرتا تھا کیونکہ وہ جسم بے جان تھا جس کو عقل کی روح نہیں دی گئی تھی اور اس کے دل میں یہ بیٹھ گیا تھا کہ یہ شخص اپنے بیان میں جھوٹا ہے اور یہ باتیں اس کے ہم صحبتوں نے اس کے دل میں بٹھائی تھیں جن سے اُس کی
شناخت کا کنواں مکدر ہو گیا تھا اور وہ ایک دن میرے پاس آیا اور نشان کے دیکھنے کے لئے بڑا اصرارکیا اور میری طرف تکبر
قا دیان بیروں نخواہم شد یا داغ اعتراف بعجز بر ناصیۂ شما خواہم گزاشت۔ و بر ایں اصرارو ر زید کہ لا بداست کہ قبل از رفتن از ایں جا نشانے مشاہدہ نماید۔ وآں شخصے بود از حلیہ ادب ۔۔۔ عاری۔ و از نہایت شوخی و خیرگی دست استبداد بد امن من زد۔ چہ او حقیقۃ کا لبدبے روان بود کہ رُوح خرد دروے ند میدہ بودند و گمان وے آں بود کہ من تار و پود دروغ بر بافتہ استم ۔و ایں اعتقاد نسبت بہ من بعضے از ہم مشر بانش خاطر نشاں کردند۔ لہٰذا چشمہ شناخت وے مکدر گردید۔ خلاصہ عادتا روزے پیش من آمد و جہت ر ویت نشانے اصرار از حد بگذر انید و در من باد یدۂ استکبار و استحقار