کان اسمہ لیکہرام، وکان من قوم عبدۃ الأصنام، وکان شدید الحقد یعترض علی الإسلام، ویسبّ نبینا خیر الأنام علیہ ألف ألف سلام۔ وتفصیل ہذہ القصۃ أنہ سمع من بعض الإخوۃ أن رجلا فی القادیان یدّعی الإلہام والکرامات، ویقول إن الإسلام ہو الدین عند اللّٰہ ربّ السماوات، ومن خالفہٗ فہو من المبطلین۔ فمازال یُعجبہ ہذا الخبر حتی قصد القادیان ذات مرۃ وہو یومئذ ابن ثلا ثین سنۃ، أو قلیل منہ کما علمنا من وجہہ فراسۃ۔ فجاء نی وسأل عن الآیات، وأظہر أنہ لایبرح الأرض أو یری بعض خرق العادات اور یہ شخص بڑا کینہ ور تھا اور اسلام پر اعتراض کیا کرتا تھا اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا ۔ اس نبی پر خدا تعالیٰ کے ہزاروں سلام ہوں اور اس قصہ کی تفصیل یہ ہے کہ اس نے بعض اپنے بھائیوں سے سنا کہ ایک آدمی قادیان میں ہے جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور نیز کرامات کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ سچا دین اسلام ہی ہے اور جو اس کا مخالف ہے وہ باطل پر ہے۔ سو وہ اس خبر سے ہمیشہ تعجب کرتاتھا یہاں تک کہ ایک مرتبہ اس نے قادیان آنے کا ارادہ کیا اور وہ ان دنوں میں تیس برس کی عمر میں تھا یا کچھ کم جیسا کہ اس کے مُنہ کے دیکھنے سے ہمیں اندازاً معلوم ہو ا ۔سو وہ میرے پا س آیا اور نشانوں کے بارے میں مجھ سے سوا ل کیا اور ظاہر کیا کہ وہ کبھی قادیان سے نہیں جائے گا مرگِ لیکھرام است۔ ایں شخصے بود کینہ توز بر اسلام حملہ ہامی کرد و نبی کریم مارا دشنام مے داد و ناگفتنیہامے گفت۔ تفصیل ایں مقال آنکہ آن عدو اسلام از ابنائے جنس خود بشنید کہ شخصے در قادیان است کہ دعویٰ الہام و اظہار خرق عادات می دارد۔ ومی گوید کہ دین حق اسلام است و ماسوا باطل۔ او از شنیدن این قصہ در شگفت می بود تا عزم آمدن در قادیان را تصمیم بداد و دران زمان جوان سی سالہ بود یا بقدر بیش و کم بر وفق آنچہ آں وقت از روئے اوہو یدا بود۔ خلاصہ آں برہمن در نزد من آمد و نشانے درخواست ۔۔۔ و گفت تا نشانے نہ بینم زنہار از