والخسوف والکسوف یتعلقان بنظام ہذہ النشأۃ، ویوجدان فیہ من بدو الفطرۃ، فثبت أن الخسوف الذی ذکرہ القرآن فی صحفہ المطہرۃ ہو من الآثار المتقدمۃ علی القیامۃ، ولقیام القیامۃ کالعلامۃ۔وإنی کتبت ہذہ المباحث مفصلۃ فی رسالتی نور الحق التی ألّفتہا فی العربیۃ، وأودعتہا عجائب آیۃ الخسوف والکسوف إتمامًا للحجۃ۔ وکنت کتبت فی تلک الرسالۃ التی ألّفتہا لبیان آیۃ الخسوف والکسوف أنی عُلّمتُ من ربّی الرحیم الرؤوف أن العذاب یحلّ علی قوم لا یتوبون بعد ہذہ الآیۃ، اور کسوف خسوف اس دنیا کے نظام سے تعلق رکھتے ہیں اور ابتدا سے اس میں بنائے گئے ہیں پس ثابت ہو اکہ وہ کسوف خسوف جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے وہ قیامت کے لئے آثار متقدمہ ہیں نہ یہ کہ قیامت کے قائم ہو جانے کی علامتیں ہیں اور میں نے ان بحثوں کو اپنے رسالہ نور الحق میں مفصّل طور پر لکھ دیا ہے اور اس رسالہ میں اس نشان کے متعلق کئی عجائبات ہیں جو میں نے اتمام حجت کی غرض سے اس میں درج کر دئیے ہیں اور میں نے رسالہ نو ر الحق میں یہ لکھا تھا کہ ان لوگوں پر عذاب نازل ہو گا کہ جو کسوف خسوف کا نشان دیکھنے کے بعد توبہ نہیں کریں گے۔ و کسوف تعلق بہ نظام ایں عالم دارد و از بدو آفرینش موجود است۔ از ایں آشکار شد کہ خسوف و کسوف کہ در قرآن مذکور است از آثار متقدمہ قیامت است نہ علامہ قیامِ قیامت۔ رسالۂ نور الحق متکفل تفصیل ایں مضمون و عجائبے دیگر ہم از باب ایں نشان درآن مذکور است کہ جہت اتمام حجت ترقیم شدہ۔ و ہم در رسالہ نور الحق نوشتہ بودم کہ عقاب خداوندی بر سر آں مردم فرود آید کہ بعد از نشان خسوف و کسوف توبہ نکنند و دین را بر دنیا