ولا یُقدمون الدین علی الدنیا الدنیّۃ۔ وکذالک سُلّط الطاعون بعدہا علی أکثر غافلی ہذہ الدّیار، وأُحرق أُلوف من الناس بتلک النار، وأرسل علی کل غافل شواظ منہا، فماتوا بجمرہا وأُخرجوا من القریٰ والأمصار۔ وما انطفأ إلی ہذا الوقت ہذا الضرام، ویرعد علی الرؤوس الحمام، ونری الأمر کما تواتر فیہ
الإلہام۔ إن فی ذالک لآیۃ لقوم متقین.وکذالک کنت کتبت فی تلک الرسالۃ أن اللّٰہ سینصر أہل الحق بعد ہذہ الآیۃ، فیزید جماعتہم ویتقوی أمرہم من
اور دین کو دنیا پر مقدم نہیں کر لیں گے ۔ سو ایسا ہی ہوا کہ خسوف کسوف کے بعد اس ملک کے اکثر غافلوں پر طاعون بھیجی گئی اور ہزاروں انسان اس وبا سے مر گئے اور ہر ایک غافل پر ایک چنگاری پڑی جس سے وہ مرے اور دیہا ت اور شہروں سے نکالے گئے اور یہ آگ اب تک ٹھنڈی نہیں ہوئی اور موت سروں پر نعرے مار رہی ہے جیسا کہ اس بارے میں متواتر الہام سے پہلے ہی سے معلوم ہو ا تھا اور اس میں پرہیزگاروں کے لئے نشان ہیں ۔ اور ایسا ہی میں نے اس رسالہ میں لکھا تھا کہ خدا تعالیٰ اس نشان کے بعد اہل حق کو مدد دے گا ۔ پس ان کی جماعت زیادہ ہو جائے گی اور ان کا کام قوت
بر نگز ینند۔ آخر بر حسب وعید خدا وندی طاعون بر سر اکثر ے از غافلان این دیار وارد آمد و ہزار ان نفس طعمۂ این و بائے عالم سوز گردید ند و بسیارے از خفتگان را از آں اخگر خرمن جان پاک بسوخت۔ و از دہ ہاو قریہ ہا اخراج شدند و ہنوز ایں آتش سرد نشدہ و شیر مرگ ہنوز از غریدن باز نہ ایستادہ۔ چنانچہ الہامات متواترہ دریں معنی خبر دادہ بودند و دریں وا قعات برائے تر سند گان نشانے وا ضح است۔
وہم چنیں در آں ایمائے رفتہ بود کہ بعد ازاں نشان اہل حق را نصرت و تائید از خدا برسدوجماعت ما را افزونی دست بہم دہد۔و کارِ ایشاں