وإیّاک وہذہ الخطأ الذی یُبعدک من المحجۃ۔ فإن الخسوف الذی ذُکر ہہنا ھُوَ موقوف علی وجود ہذہ النشأۃ الدنیویۃ، فإنہ ینشأ من أشکال نظامیۃ، وأوضاع مقررۃ منتظمۃ ویکون فی الأوقات المعینۃ والأیام المعلومۃ المشتہرۃ۔ ولا بد فیہ من رجوع النیرین إلی ہیئتہما السابقۃ بعد خروجہما من ہذہ الحالۃ۔ وأما الآیات التی تظہر عند وقوع واقعۃ الساعۃ فہی تقتضی فساد ہذا الکون بالکلیۃ،
فإنہا حالات لا تبقی الدنیا
بعدہا ولا أہل ہذہ الدار الدنیۃ
ہے وہ اس دنیوی پیدائش پر موقوف ہے ۔ وجہ یہ کہ خسوف کسوف اوضاع مقررہ منتظمہ سے پیدا ہو تا ہے اور اوقات معیّنہ اور ایّام معلومہ میں اس کا ظہور ہوتا ہے اور خسوف کسوف میں یہ امر ضروری ہے کہ آفتاب اور قمر بعد اس کے کہ اس حالت سے باہر آویں اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کریں مگر وہ نشان جو قیامت کے قائم ہو نے کے وقت ظہور میں آئیں گے وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جبکہ دنیا کا سلسلہ بکلّی درہم برہم ہو جائے گا کیونکہ وہ ایسی حالتیں ہیں کہ ان کے بعد دنیا نہیں رہے گی اور نہ اہل دنیا رہیں گے
اوضاع مقررۂ منتظمہ و در ایام معینہ و اوقات معلومہ ظہورش می باشد۔ و نیز درآں ضروری است کہ آفتاب و ماہتاب بعد از خروج ازاں تیرگی رجوع بحالت سابقہ خود نمایند۔ اماآن نشانہا کہ قرب قیامت پد یدار گردند آں وقتے باشد کہ ایں نظام سلسلہ عالم بالمرّہ از ہم بپاشد زیرا کہ از پس آں حالت ہا دنیا و اہل دنیا را نشانے و اثرے نخواہد بود۔ و خسوف