والابتداء ، فیُکَفَّر ویُکذّب ویُعزی إلی الدجل والتلبیس والافتراء ، وتُکتب علیہ فتاوی الکفر والخروج من الشریعۃ الغرّاء ، ویُقال فیہ کل ما قال الکافرون فی الأنبیاء۔ثم توضع لہ القبولیۃ فی الأرض من حضرۃ الکبریاء فلا یوجد اثنان من المؤمنین إلَّا ویذکرونہ بالمدح والثناء۔ ثم اعلم أن آیۃ الخسوف والکسوف قد ذکرہا القرآن فی أنباء قرب القیامۃ، وإن شئت فاقرأ ہذہ الآیۃ وکررہا لإدراک ہذہ الحقیقۃ 3333 33 ۱ ثم تدبّر بالخشوع والخشیۃ، ولا یذہب فکرک إلی أنہ من وقائع القیامۃ،
تکذیب ہو گی ۔ اور دجل اور تلبیس اور افترا کی طرف منسوب کیا جائے گا اور اس پر کفر اور مرتد ہونے کے فتوے لکھے جائیں گے اور وہ سب کچھ اس کے حق میں کہا جائے گا جو کافروں نے نبیوں کے حق میں کہا ۔پھر اس کی قبولیت زمین پر پھیلائی جائے گی ۔ پس مومنوں میں سے دو آدمی ایسے نہ پائے جائیں گے کہ اس کو مدح اور ثنا کے ساتھ یا د نہ کرتے ہوں اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ قرآ ن شریف نے کسوف خسوف کے نشان کو قرب قیامت کے نشانوں میں سے لکھا ہے اور اگر تو چاہے تو اس آیت کو پڑھ کہ 333 3 3 333 اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نشان قیامت کے واقعات میں سے ہے کیونکہ جس خسوف اور کسوف کا اس جگہ ذکر
و بعد زان برائے وے قبولیت در زمین نہاد ہ شود حتی کہ دو تن اگر در جائے فراہم آیند مدح و ثنائے او بر زبان بر انند ۔
مخفی نماند کہ قرآن کریم خسوف و کسوف را از نشانہائے قرب قیامت قرار دادہ چنانچہ گوید 3 3 33 و معنی اش آں نہ کہ ایں نشان از واقعات قیامت بودہ است زیرا کہ خسوف و کسوف کہ ایں جا مذکور است بستہ بہ وجود ایں عالم است۔ چہ آں ناشی از